بغیر اجازت 'عینک والا جن' پر اے آئی فلم بنانا مہنگا پڑ گیا، ڈائریکٹر حفیظ طاہرسخت برہم
پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ کے سب سے مقبول اور یادگار بچوں کے کامیڈی ڈرامہ سیریل ’عینک والا جن‘ کے خالق، مصنف اور ہدایت کار حفیظ طاہر نے ان کے مشہور ڈرامے کے نام اور تصور پر مبنی مبینہ طور پر بغیر اجازت مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کی گئی فلم پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے اپنی تخلیقی ملکیت پر ”دن دہاڑے ڈاکہ“ قرار دیا ہے۔
حفیظ طاہر نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں شدید افسوس اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت گہرے صدمے اور سخت غصے کی حالت میں ہیں کیونکہ ان کی دہائیوں کی محنت اور تخلیق کو ان کی مرضی کے بغیر استعمال کر کے ایک اینیمیٹڈ فلم بنائی گئی اور اسے سینما گھروں میں بھی نمائش کے لیے پیش کر دیا گیا ہے جسے وہ کسی صورت درست نہیں سمجھتے۔
انہوں نے کہا، ”میں آج گہرے صدمے اور سخت غصے میں ہوں، کیونکہ میری زندگی بھر کے فنی اثاثے ’عینک والا جن‘ پر دن دہاڑے ڈاکہ مارا گیا ہے۔ میرے ڈرامے کے نام کو استعمال کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایک فلم بنا کر سینما گھروں میں بھی ریلیز کر دی گئی ہے۔“
حفیظ طاہر کا کہنا تھا کہ ’عینک والا جن‘ صرف ایک ڈرامہ نہیں بلکہ ان کی برسوں کی تخلیقی محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا، ”یہ میرا آئیڈیا ہے، میری تخلیق ہے، میں ہی اس کا کانسیپٹ رائٹر ہوں، اس کا نام بھی میں نے رکھا اور ہدایت کاری بھی میں نے ہی کی۔ “
ان کا کہنا تھا کہ، ”90 کی دہائی میں ایک بہترین معیار کا سیریل تیار کر کے پی ٹی وی کے حوالے کیا تھا، جس نے بے حد مقبولیت حاصل کی اور پی ٹی وی کو بھی اس سے بے حد مالی فائدہ ہوا۔“
ہدایت کار نے دعویٰ کیا کہ اے آئی فلم بنانے والے فلم ساز فرحان خان نے نہ تو ان سے کوئی اجازت حاصل کی اور نہ ہی انہیں اس منصوبے میں شامل کیا گیا۔
انہوں نے کہا، ”نہ فلم بنانے والوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور نہ ہی اس منصوبے کے میڈیا پارٹنر پی ٹی وی نے پروڈکشن کے دوران ان سے رابطہ کرنے کی زحمت کی۔“
ویڈیو میں حفیظ طاہر نے اے آئی فلم کے معیار پر بھی شدید تنقید کی اور کہا، ”فلم میں ڈرامے کے یادگار کرداروں کی شکلیں بگاڑ دی گئی ہیں، خاص طور پر مرکزی کردار نسطور جن ایک ڈاکو لگتا ہے۔ اس کا چہرہ خراب کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر معیاری آوازیں اور مصنوعی ذہانت سے بنا ہوا انتہائی ناقص میوزک شامل کر کے ڈرامے کی اصل روح کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تخلیقی کام کسی بھی فنکار کی قیمتی ملکیت ہوتا ہے اور نئی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے بھی اصل تخلیق کار کے حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق کسی بھی مشہور ڈرامے یا کردار کو نئی شکل میں پیش کرنے سے پہلے متعلقہ تخلیق کار کی اجازت لینا ضروری ہے۔
انہوں نے عوام سےمشورہ مانگا کہ آیا اس پر صرف ماتم کر کے خاموش رہا جائے یا کوئی قانونی کارائی کی جانی چاہیے۔
واضح رہے کہ ’عینک والا جن‘ پاکستان ٹیلی ویژن کا ایک یادگار بچوں کا کامیڈی اور فینٹسی ڈرامہ تھا، جو 1993 سے 1996 تک نشر کیا گیا۔ اس ڈرامے کے منفرد کردار، دلچسپ کہانی، مزاح اور اخلاقی سبق نے اسے بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں میں بھی بے حد مقبول بنایا۔ نسطور جن، زکوٹا جن، بل بتوڑی، حموں اور دیگر کردار آج بھی ناظرین کی یادوں کا حصہ ہیں۔
ڈرامے کے مشہور کردار جیسے زکوٹا جن (مطلوب الرحمان) اور بل بتوڑی (نصرت آرا) ماضی میں ہی اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، جبکہ نسطور جن کا کردار شہزاد قیصر نے ادا کیا تھا۔
دوسری جانب اس معاملے پر فلم ساز فرحان خان یا پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ مذکورہ فلم کی تیاری کے دوران اصل تخلیق کار سے حقوق یا اجازت کے حوالے سے کوئی معاہدہ کیا گیا تھا یا نہیں۔