'امریکا سے کوئی بات نہیں ہو رہی': ایران نے ٹرمپ کے دعوے کی تردید کردی

برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین کی ایران جنگ میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی
اپ ڈیٹ 03 اگست 2026 01:39pm

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اس وقت امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں کر رہا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ نہ کوئی امریکی وفد ایران آ رہا ہے اور نہ ہی تہران سے کوئی وفد امریکا یا کسی مذاکراتی عمل کے لیے روانہ ہو رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ آج سے ایران کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔ تاہم ایرانی ترجمان نے اس کی تردید کردی ہے۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران کو خطے کے ممالک سے کوئی مسئلہ نہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی بنیادی وجہ امریکا کی پالیسیوں اور اس کی جارحیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال جنگ سے پہلے والی کیفیت میں واپس نہیں جا سکے گی اور جب تک امریکا کی جارحانہ پالیسیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا، خطے میں موجودہ حالات برقرار رہنے کا امکان ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا پورے خطے میں جنگی ماحول پیدا کیے ہوئے ہے اور اس کی پالیسیاں علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی امریکی کارروائی درحقیقت پورے خطے کے خلاف جنگ تصور کی جائے گی۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے یمن کی صورتحال پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یمن کا معاملہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی یا جنگ سے منسلک نہیں ہے، اس لیے دونوں معاملات کو ایک دوسرے سے جوڑنا درست نہیں۔

انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے معاملات میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ چین بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے کہ خطے کے ممالک موجودہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھ رہے ہیں، تاہم علاقائی امن کے لیے ضروری ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ کریں تاکہ بیرونی مداخلت اور کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔

اسماعیل بقائی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔

دوسری جانب اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین نے ایران کے خلاف کسی بھی جنگ یا فوجی کارروائی میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ ثالث بھی اس معاملے سے آگاہ ہیں۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ صورت حال میں بنیادی اور اہم مسائل میں آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی شامل ہے، جس پر مختلف فریقوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کا معاملہ امریکا کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی سے جڑا ہوا ہے۔

ترجمان ایران کی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکا نے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت بحری آمد ورفت کی بحالی کی اجازت نہیں دی اور معاہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی حملہ کر دیا۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکی اقدامات نے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کا مؤقف امریکی وعدوں کی پاسداری اور بین الاقوامی بحری آمد ورفت کے معاملات سے براہِ راست وابستہ ہے۔

ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ ثالث اس تمام صورت حال اور اس سے جڑے بنیادی نکات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں، جبکہ ایران خطے میں پیدا ہونے والی صورت حال پر اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا۔

Read Comments