میر رضا علی قتل کیس: قرض داروں سے تفتیش کا فیصلہ

اس سلسلے میں مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے 18 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے تھانے منتقل کر دیا گیا
شائع 04 اگست 2026 01:17pm

کراچی میں نوجوان میر رضا کے قتل کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے مقتول سے مالی لین دین رکھنے والے تمام افراد کو شاملِ تفتیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے 18 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دو بھائیوں سمیت آٹھ افراد پر میر رضا کی رقم واجب الادا تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دو بھائیوں پر کروڑوں روپے جبکہ دیگر افراد پر لاکھوں روپے کے واجبات تھے، اسی لیے ان تمام افراد سے مالی معاملات اور دیگر ممکنہ پہلوؤں کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

تحقیقات میں شامل حکام کے مطابق زیرِ حراست افراد میں سے چھ کا تعلق ایک گیسٹ ہاؤس سے ہے، جبکہ کرائم سین کے قریب سے گزرنے والے چار افراد کو بھی تحقیقات کے لیے پولیس تحویل میں لیا گیا ہے تاکہ واقعے سے متعلق ہر ممکن معلومات حاصل کی جا سکیں۔

دوسری جانب کیس میں ایک نئی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جس نے تحقیقات میں اہم پیش رفت پیدا کر دی ہے۔

پولیس کے مطابق ویڈیو میں میر رضا کو اپنی جیب سے ایک روشن چیز نکال کر سڑک کنارے پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی جائزے کے مطابق سی سی ٹی وی میں نظر آنے والی یہ چیز موبائل فون معلوم ہوتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ایک شہری نے متعلقہ موبائل فون ملنے کی اطلاع دی اور پولیس کو اس مقام کی نشاندہی بھی کی۔ شہری کے مطابق اسے فون اسی جگہ سے ملا تھا جہاں سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا کو کوئی چیز پھینکتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے موبائل فون کا فرانزک معائنہ اور ڈیجیٹل ڈیٹا حاصل کرنے کی کارروائی جاری ہے، جبکہ قتل کیس کے تمام پہلوؤں، مالی معاملات، رابطوں اور شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے گریجویٹ، 25 سالہ نوجوان تاجر اور ’وافلکس‘ کے بانی میر رضا علی خان 28 جولائی کی شب اپنے گھر سے یہ کہہ کر نکلے تھے کہ وہ چند منٹ میں واپس آ جائیں گے، تاہم وہ گھر نہ لوٹے۔

ان کے والد میر حسین علی نے بتایا تھا کہ میر رضا اس رات اپنی دکان سے واپس آنے کے بعد والدہ کو یہ کہہ کر گھر سے نکلے تھے کہ وہ صرف دس منٹ میں واپس آ جائیں گے، لیکن اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ اگلے روز، 29 جولائی کو گلستانِ جوہر بلاک ون میں جھاڑیوں سے ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔

میر رضا علی کو قتل کیا گیا یا اس نے خود کشی کی ہے اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔

Read Comments