بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کیوں مؤثر ثابت نہیں ہو رہی؟

آسٹریلیا میں پابندی کے باوجود 10 میں سے 8 بچے اب بھی سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں: سرکاری رپورٹ میں انکشاف
شائع 04 اگست 2026 04:11pm

دنیا بھر میں حکومتیں بچوں کی ذہنی صحت، آن لائن تحفظ اور منفی اثرات کے پیشِ نظر کم عمر صارفین کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت قوانین متعارف کرا رہی ہیں۔ آسٹریلیا پہلا ملک تھا جس نے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی عائد کی تھی، تاہم نئی سرکاری تحقیق نے اس قانون کے عملی نفاذ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

آسٹریلیا کے سرکاری انٹرنیٹ ریگولیٹر ’ای سیفٹی‘ کی تازہ رپورٹ کے مطابق 16 سال سے کم عمر آسٹریلوی بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد حکومتی پابندی کے باوجود سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہے۔

آسٹریلیا میں دسمبر 2025 میں نافذ کیے گئے قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے انسٹاگرام، ٹِک ٹاک، فیس بُک، ایکس اور یوٹیوب جیسے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنا ممنوع قرار دیا گیا تھا۔

آسٹریلوی حکومت نے بچوں کے عدم تحفظ، آن لائن ہراسانی، خودکشی سے متعلق مواد اور بچوں کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو اس پابندی کی وجہ قرار دیا تھا۔

قانون کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے کم عمر صارفین کو روکنے کے لیے معقول اقدامات نہ کیے جانے کی صورت میں انہیں 3 کروڑ 30 لاکھ آسٹریلوی ڈالر تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

حکام کے مطابق رواں سال جنوری تک تقریباً 47 لاکھ ایسے اکاؤنٹس بند کیے جا چکے تھے جن کی شناخت کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کے طور پر ہوئی تھی۔

تاہم ای سیفٹی کی تازہ رپورٹ کے مطابق 16 سال سے کم عمر کے 81 فیصد سے زائد بچے اب بھی کم از کم ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال کر رہے ہیں۔ پابندی سے پہلے یہ شرح تقریباً 86 فیصد تھی، یعنی قانون کے بعد بھی صرف معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 58 فیصد نوجوان روزانہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں جب کہ پابندی سے قبل یہ شرح تقریباً 60 فیصد تھی۔

کھیلوں، جسمانی سرگرمیوں، فنون، موسیقی، خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے یا سماجی سرگرمیوں میں شرکت کے حوالے سے بھی کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن بچوں کے پاس پابندی سے پہلے سوشل میڈیا اکاؤنٹس موجود تھے، ان میں سے زیادہ تر یا تو وہی اکاؤنٹس استعمال کرتے رہے یا انہوں نے آسانی سے نئے اکاؤنٹس بنا لیے ہیں۔

تحقیق کے مطابق تقریباً نصف بچوں کے مطابق متعلقہ پلیٹ فارمز نے ان کی عمر کی تصدیق ہی نہیں کی جب کہ دیگر بچوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے رجسٹریشن کے وقت اپنی عمر 16 سال یا اس سے زیادہ ظاہر کی تھی۔ ای سیفٹی کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانون کے باوجود سوشل میڈیا پلیٹ فارمز عمر کی تصدیق (ایج ویری فکیشن) میں ناکام ہیں اور یہی عوامل قانون کے مؤثر نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی آئی ٹی ماہرین نے اس قانون کے نفاذ سے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ صرف پابندی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گی۔

ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی سے واقف نوجوان ’وی پی این‘، جعلی تاریخ پیدائش یا دیگر طریقوں سے نظام کو دھوکہ دے سکتے ہیں یا پھر ان پلیٹ فارمز یا ویڈیو گیمز کا رخ کر سکتے ہیں جو پابندی کی فہرست سے باہر ہیں۔

آسٹریلیا کے بعد دنیا کے متعدد ممالک کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی یا سخت ضابطے متعارف کروا چکے یا کروانے کی تیاری میں مصروف ہیں۔ ملائیشیا، انڈونیشیا اور آذربائیجان سمیت کئی ممالک نے سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر کر دی ہے۔

برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ 2027 سے کم عمر بچوں کے لیے ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی جب کہ واٹس ایپ، سگنل، تعلیمی پلیٹ فارمز، ای کامرس اور میوزک اسٹریمنگ سروسز پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

ڈنمارک بھی رواں سال 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے پابندی نافذ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یونان نے بھی پارلیمانی منظوری سے مشروط یکم جنوری 2027 سے 15 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

اگرچہ آسٹریلوی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے عمر کی تصدیق (ایج ویری فکیشن) کے نظام کو اس قانون کے نفاذ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے تاہم بعض ممالک نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی کے بجائے دیگر قانونی طریقے بھی اختیار کر رکھے ہیں۔

ویتنام میں 16 سال سے کم عمر صارفین اکاؤنٹ تو رکھ سکتے ہیں لیکن انہیں کوئی مواد پوسٹ کرنے، تبصرہ کرنے یا کسی مواد پر ردعمل دینے کی اجازت نہیں۔

برازیل میں نافذ ڈیجیٹل قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس کو والدین کے اکاؤنٹس سے منسلک کرنا بھی قانونی تقاضا ہے۔

اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کے ایسے تمام فیچرز پر پابندی عائد ہے جو مخصوص الگورتھم کے تحت کام کرتے ہیں، جس میں سے ایک ’انفینٹی اسکرولنگ‘ یعنی ختم نہ ہونے والی فیڈ اور ’آٹو پلے‘ یعنی ویڈیوز کا خود بخود چلنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیچرز بچوں کے دماغ میں منشیات کی طرح ’ڈوپامائن‘ پیدا کر کے انہیں عادی بنا دیتے ہیں۔

چین میں کم عمر بچوں کے لیے ریاستی سطح پر ’مائنر موڈ‘ نامی سخت ترین قانون اور فریم ورک موجود ہے، جو 18 سال سے کم عمر بچوں کو موبائل کی لت سے بچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

اس قانون کے تحت چین میں فروخت ہونے والے تمام اسمارٹ فونز اور ایپس میں ایک ’مائنر موڈ‘ شامل کیا جاتا ہے جسے والدین ایک کلک سے آن کر سکتے ہیں۔

مائنر موڈ آن ہونے کے بعد موبائل پر مخصوص ایپس اور انٹرنیٹ تک رسائی مکمل طور پر بلاک ہو جاتی ہے۔ البتہ والدین کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہیں تو مائنر موڈ کے وقت کو بڑھا سکتے ہیں یا مخصوص تعلیمی ایپس کو اس پابندی سے استثنیٰ دے سکتے ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا الگورتھمز پر بھی سخت نگرانی نافذ ہے۔

متحدہ عرب امارات نے بھی کم عمر بچوں کی ڈیجیٹل سیفٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی کی ہے مگر یہ ماڈل آسٹریلیا کے ’بلینکٹ بین‘ کے برعکس ہے۔

یو اے ای حکومت نے ’چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی کونسل‘ قائم بھی کی ہے جس کا کام وزارتوں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر بچوں اور والدین میں انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کا شعور بیدار کرنا ہے۔

آسٹریلوی قانون کے تحت والدین خود بھی چاہیں کہ ان کا 14 سالہ یا کم عمر بچہ سوشل میڈیا استعمال کرے تو وہ قانوناً ایسا نہیں کر سکتے تاہم متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق 13 سال سے کم عمر بچے والدین کی تحریری اجازت سے سوشل میڈیا استعمال کرسکتے ہیں۔ اس قانون میں ’پیرنٹل کنٹرول‘ یعنی خلاف ورزی پر ٹیک کمپنیوں کے ساتھ والدین کو بھی جواب دہ بنایا گیا ہے۔

امریکا میں بعض ریاستیں جیسے فلوریڈا، 14 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کر چکی ہیں جب کہ یوٹاہ، کیلیفورنیا اور نیبراسکا سمیت دیگر ریاستوں میں والدین کی اجازت اور مخصوص الگورتھمز پر پابندی کے قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔

ای سیفٹی کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے آسٹریلیا کے وزیرِ برائے پیداواری صلاحیت اینڈریو لی کا رپورٹ کا کہنا تھا کہ ’کم عمر بچوں کی شراب نوشی پر پابندی سے متعلق قوانین پر بھی مکمل عمل درآمد نہیں ہوتا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے قوانین ہی غیر ضروری ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کا مقصد صرف بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنا نہیں بلکہ والدین اور معاشرے کو ذمہ دار بنانا ہے، اس قانون نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی زیادہ سنجیدہ بنایا ہے۔

Read Comments