امید ہے آئندہ چند گھنٹوں میں امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ہوجائے گا: قطر

قطر، عمان اور پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات میں معاونت کر رہے ہیں: قطری وزارتِ خارجہ
شائع 04 اگست 2026 08:09pm

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ قطر نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا اور ایران آئندہ چند گھنٹوں میں کسی معاہدے تک پہنچنے سکتے ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کو بریفنگ میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے جاری ثالثی کی کوششیں انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے تاہم ثالث ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ قطر، عمان اور پاکستان سمیت ثالثی کرنے والے ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں، مجوزہ معاہدوں کے مسودوں کے تبادلے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے معاونت میں مصروف ہیں۔

آبنائے ہرمز کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے قطری ترجمان نے کہا کہ قطر کا مؤقف ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھلنا چاہیے اور یہاں جہاز رانی اسی طرح جاری رہنی چاہیے جیسے ماضی میں جاری تھی۔

ماجد الانصاری کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کیا جانا چاہیے تاہم امریکا نے اس تجویز کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

قطری ترجمان نے کہا کہ ان کے ملک کے نزدیک آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات کا فیصلہ علاقائی ممالک کو مل کر کرنا چاہیے تاکہ خطے میں استحکام اور عالمی توانائی کی ترسیل بلا تعطل برقرار رہ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوحہ ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، امید ہے کہ امریکا اور ایران آئندہ چند روز یا گھنٹوں میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک یا دو روز میں معاہدے کا امکان ہے۔

اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب رہے تو آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران معاہدے کا باضابطہ اعلان سامنے آسکتا ہے۔

Read Comments