ایرانی قیادت میں اختلافات کی ’افواہیں‘؛ استعفے کی خبریں بے بنیاد ہیں: صدر مسعود پزشکیان

میں استعفا نہیں دوں گا بلکہ ڈٹا رہوں گا: ایرانی صدر
شائع 05 اگست 2026 08:59am

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ شدید اختلافات سے متعلق تمام افواہوں اور خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

اقتدار کے دو سال مکمل ہونے پر قومی ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ وہ اپنے عہدے پر برسرِ پیکار رہیں گے اور بطور صدر اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت اور ملکی مسلح افواج کے درمیان کامل ہم آہنگی اور مکمل رابطہ موجود ہے۔

اپنے استعفے کی اطلاعات پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ”اگر میں کبھی مستعفی ہونا چاہوں گا تو اس کا باضابطہ طور پر خود اعلان کروں گا، میں استعفا نہیں دوں گا بلکہ ڈٹا رہوں گا“۔

برطانوی خبر رساں ارادے ’دی گارڈین‘ کے مطابق، صدر پزشکیان کے استعفے کی خبریں اس وقت سامنے آئیں جب نئے سپریم لیڈر سے خاندانی تعلق رکھنے والے سیاست دان محمد باقر خرازی نے دعویٰ کیا کہ صدر نے فیصلوں سے الگ کیے جانے پر بارہا تحریری اور زبانی استعفے کی دھمکی دی ہے۔

تاہم سپریم لیڈر کے دفتر نے ان خبروں کو بنیاد پرست اور مکمل طور پر جھوٹا قرار دیا ہے۔

صدر پزشکیان کے دفتر کے سینئر رکن مہدی طباطبائی نے بھی ان رپورٹس کو محض جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایک انتہا پسند اور دھوکے باز گٹھ جوڑ قومی انتخابات کے جمہوری نتائج کو قبول کرنے سے قاصر ہے اور دو سال گزرنے کے بعد بھی عوام کے فیصلے کا بدلہ لینے کے لیے ایران کے دشمنوں کے ہاتھوں کا کھلونا بنا ہوا ہے“۔

Read Comments