شیخ حسینہ کے خطاب پر بنگلہ دیش کا سخت ردعمل، بھارت سے وضاحت طلب

"سب سے پہلے ہمسایہ " کا ڈرامہ فاش، بھارت پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا- ماہرین
شائع 05 اگست 2026 12:20pm

بنگلہ دیش نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے نئی دہلی سے ورچوئل خطاب کے اعلان پر بھارت سے وضاحت طلب کر لی ہے۔ ڈھاکہ کا کہنا ہے کہ بھارت کو اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرنا ہوگا، جبکہ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق یہ ایک نجی تقریب ہے اور حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے بعد بنگلہ دیش نے بھی بھارت پر اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو بھارت میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینا اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شیخ حسینہ 5 اگست کو نئی دہلی میں فارن کورسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کی ایک تقریب سے ورچوئل خطاب کریں گی، جس پر بنگلہ دیشی حکومت نے بھارتی حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔

بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ بھارت کو واضح کرنا ہوگا کہ اس معاملے میں اس کا کیا کردار ہے اور وہ اس تقریب سے کس حد تک لاتعلق ہے۔

دوسری جانب بھارتی دفتر خارجہ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کہا ہے کہ مذکورہ تقریب نجی نوعیت کی ہے اور اس کا بھارتی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔

تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں اس نوعیت کی بڑی تقریب کا انعقاد حکومتی اداروں کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ہوتا، اس لیے بھارتی مؤقف کئی حلقوں میں سوالات کی زد میں ہے۔

مبصرین کے مطابق شیخ حسینہ کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنا بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں معنی خیز اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق شیخ حسینہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش سے روانہ ہونے کے بعد سے بھارت میں مقیم ہیں، جبکہ ڈھاکہ حکومت بدستور ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عدالت سے سزا کے بعد شیخ حسینہ بنگلہ دیشی حکام کو مطلوب ہیں، اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی دہلی میں شیخ حسینہ کا ورچوئل خطاب بنگلہ دیش کی داخلی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ڈھاکہ اس معاملے پر بھارت سے مزید وضاحت کا منتظر ہے۔

بعض سیاسی مبصرین نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بھارت ماضی میں خطے کے مختلف ممالک کے داخلی معاملات میں کردار ادا کرنے کے الزامات کا سامنا کرتا رہا ہے، جبکہ ان کے مطابق اب بنگلہ دیش کے معاملے میں بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

Read Comments