پاکستانیوں کے لیے برطانوی اسکالرشپ اور کامن ویلتھ اسٹارٹ اپ فیلو شپ کے دروازے کھل گئے

برطانیہ نے پاکستانیوں کے لیے اسکالرشپس، فیلوشپ اور کامن ویلتھ اسٹارٹ اپ فیلوشپ کے لیے درخواستیں طلب کر لیں.
شائع 05 اگست 2026 01:22pm

برطانیہ نے پاکستانی طلبہ، محققین اور کاروباری افراد کے لیے چیوننگ اسکالرشپس، چیوننگ آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز (او سی آئی ایس) فیلوشپ اور کامن ویلتھ اسٹارٹ اپ فیلوشپ کے لیے درخواستیں وصول کرنا شروع کر دی ہیں۔ برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق یہ پروگرام باصلاحیت پاکستانیوں کو اعلیٰ تعلیم، تحقیق، پیشہ ورانہ ترقی اور بین الاقوامی روابط کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔

برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان پروگراموں کا مقصد شرکا کو عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی دینا، نئے اور مؤثر خیالات کو فروغ دینا اور دنیا بھر کے ماہرین اور پیشہ ور افراد کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

دی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق چیوننگ اسکالرشپس کے تحت منتخب امیدواروں کو برطانیہ کی مختلف جامعات میں ایک سالہ ماسٹرز ڈگری مکمل طور پر سرکاری اخراجات پر کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

اس پروگرام کے لیے ایسے امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی جو قائدانہ صلاحیتوں، مثبت تبدیلی لانے کے عزم اور معاشرے پر مؤثر اثر ڈالنے کی واضح سوچ کا مظاہرہ کریں۔

اسی طرح چیوننگ آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز فیلوشپ درمیانی کیریئر کے اساتذہ اور پیشہ ور افراد کے لیے مختص ہے۔ اس کے تحت منتخب افراد کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں آزادانہ تحقیق کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے شعبے میں مزید مہارت حاصل کر سکیں۔

دوسری جانب کامن ویلتھ اسٹارٹ اپ فیلوشپ ایسے کاروباری افراد کے لیے متعارف کرائی گئی ہے جن کے کاروباری منصوبوں میں ترقی کی صلاحیت موجود ہو۔ اس پروگرام کے ذریعے شرکا کو برطانیہ کے ماہرین سے سیکھنے، اپنے کاروبار کو مزید مضبوط بنانے اور اسے وسعت دینے کی تیاری کا موقع ملے گا۔

پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ان پروگراموں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں اور یہ مواقع باصلاحیت پاکستانیوں کو ایسی مہارتیں، روابط اور خیالات فراہم کرتے ہیں جن کی مدد سے وہ اداروں کی قیادت کر سکتے ہیں، کاروبار کو فروغ دے سکتے ہیں اور دنیا کو درپیش اہم مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے درخواست دینے والے امیدواروں پر زور دیا کہ وہ اپنی درخواستیں اپنے ذاتی تجربات، خیالات اور مستقبل کے منصوبوں کی بنیاد پر تیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی سے تیار کیے گئے جوابات استعمال کرنے والے امیدوار نااہلی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

ہائی کمیشن کے مطابق یہ تینوں پروگرام مکمل طور پر مفت ہیں۔ ان تینوں پروگراموں کے تحت منتخب امیدواروں کے ہوائی سفر، تعلیمی فیس، ویزا اخراجات اور رہائش و دیگر ضروری اخراجات کے لیے وظیفہ بھی فراہم کیا جائے گا، تاکہ انہیں تعلیم یا تحقیق کے دوران مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی کے ساتھ ساتھ شرکا کو مختلف ثقافتوں اور عالمی نقطہ نظر کو سمجھنے، بین الاقوامی روابط قائم کرنے اور دنیا بھر کے رہنماؤں کے ساتھ مستقل تعلقات استوار کرنے کا بھی موقع ملے گا۔

برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق پاکستان میں اب تک دو ہزار سے زائد چیوننگ پروگرام کے سابق شرکا موجود ہیں، جو سرکاری اداروں، کاروباری شعبے، جامعات، میڈیا اور سول سوسائٹی میں مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر چیوننگ نیٹ ورک میں 20 سے زائد موجودہ یا سابق سربراہانِ مملکت اور حکومت بھی شامل رہ چکے ہیں۔

بیان کے مطابق چیوننگ اسکالرشپس، کامن ویلتھ اسٹارٹ اپ فیلوشپ اور چیوننگ آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز فیلوشپ کے لیے درخواستیں جمع کرانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ یہ درخواستیں جمع کرنے کا عمل یکم ستمبر تک جاری رہے گا۔ برطانوی ہائی کمیشن نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی درخواستیں مکمل کر کے جمع کرائیں۔

Read Comments