عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر اتفاق ہو گیا، اعلان جلد متوقع: ایران
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر مفاہمت تک پہنچ گئے ہیں اور مشترکہ اعلان کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ تاہم تہران کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور امریکی فوجی اقدامات کے باعث محفوظ جہاز رانی کی مکمل ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق طے پانے والی مفاہمت ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس سے خود بخود اس اہم بحری گزرگاہ میں مکمل تحفظ یقینی نہیں ہو جاتا۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ٹیلی گرام پیج پر جاری بیان میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ پیدا کرنے والے کئی بنیادی عوامل اب بھی موجود ہیں۔
انہوں نے خطے میں کشیدگی کی وجوہات میں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکا بندی، فوجی دباؤ اور دیگر جارحانہ و دھمکی آمیز اقدامات کا حوالہ دیا۔ ایرانی ترجمان کے مطابق جب تک یہ عوامل برقرار رہیں گے، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے مکمل تحفظ کی یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔
دوسری جانب ’العربیہ‘ مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر اتفاق رائے تک پہنچ گئے ہیں، جب کہ دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلان کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان مذاکرات پیشہ ورانہ انداز میں جاری ہیں اور دونوں فریق زیر غور بحری راستے کے جغرافیائی دائرہ کار پر باہمی مفاہمت تک پہنچ چکے ہیں۔
ایک سوال کے جواب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران پاکستان اور قطر کے ساتھ مختلف امور پر رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم وزیر خارجہ عباس عراقچی یا پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے فی الحال دونوں میں سے کسی بھی ملک کے دورے کا کوئی منصوبہ نہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ انتظام کے تحت آبنائے ہرمز سے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کے راستے کے تعین اور نگرانی میں ایران کو زیادہ اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق معاہدے کے بعض اہم نکات پر مزید بات چیت باقی ہے۔
دوسری طرف امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ سے گفتگو کرنے والے ایک خلیجی عہدیدار نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جمعے کو کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے امکانات تقریباً 50 فی صد ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت بہت اچھی جاری ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کسی ممکنہ معاہدے سے پیچھے ہٹا تو امریکا سخت کارروائی کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے الگ بیان میں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی سمجھوتے کا اعلان جلد کیا جا سکتا ہے۔
ایران نے تاہم امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جاری بات چیت صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاملات حل کرنے کے لیے ہو رہی ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی حالیہ بات چیت کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے ایک محفوظ راستہ تلاش کرنا ہے، تاہم تہران کا مؤقف ہے کہ علاقائی بحری سلامتی صرف دوطرفہ معاہدوں سے ممکن نہیں بل کہ خطے میں موجود تمام طاقتوں کے اقدامات بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے تین مختلف بحری راستے
ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز سے متعلق تین مختلف بحری راستے زیر بحث آئے ہیں، جن میں سے ہر ایک کو مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔
ایرانی راستہ:
پہلا راستہ ایران کی اپنی علاقائی سمندری حدود سے گزرتا ہے۔ ایران نے 19 جون سے تمام تجارتی جہازوں کو اسی راستے کے استعمال کی ہدایت دے رکھی ہے اور اسے آبنائے ہرمز کا واحد محفوظ راستہ قرار دیا ہے۔
تہران اس راستے کو نہ صرف بحری تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتا ہے بل کہ اسے مذاکرات میں دباؤ کے ایک اہم ذریعے کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ دیگر راستوں کے مقابلے میں اس راستے پر زیادہ نگرانی اور تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے ان بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں کیں جو اس کے مقرر کردہ راستے کے بجائے دیگر گزرگاہوں کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان واقعات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی بھی متاثر ہوئی۔
عمان اور عالمی بحری تنظیم کا راستہ:
دوسرا راستہ عمان اور اقوام متحدہ کے بین الاقوامی بحری ادارے کی جانب سے تجویز کیا گیا ہے۔ یہ گزرگاہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں عمانی ساحل کے قریب سے گزرتی ہے۔
ایران نے اس راستے پر اعتراض کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اسے امریکی دباؤ کے تحت فعال کیا جا رہا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے آبنائے ہرمز کے معاملات میں بیرونی مداخلت بڑھ سکتی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق عمانی سمندری حدود کے قریب بعض تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے منافی ہیں۔
جنگ سے پہلے والا روایتی راستہ:
تیسرا راستہ وہ بحری گزرگاہ ہے جو امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی سے پہلے معمول کے مطابق استعمال ہوتی تھی۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے مرکزی حصے سے گزرتا ہے جہاں سے دنیا بھر کے تجارتی جہاز بلا رکاوٹ آمدورفت کرتے تھے۔
ایران نے اب اس راستے کو خطرناک علاقہ قرار دے رکھا ہے، تاہم سیکیورٹی خدشات کے باوجود بعض بحری جہاز اب بھی اسی راستے کو استعمال کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس گزرگاہ کو درپیش خطرات میں ممکنہ بحری بارودی سرنگیں، فوجی کشیدگی اور اچانک کارروائیوں کا خدشہ شامل ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے جنگ سے پہلے عالمی توانائی کی تقریباً 20 فی صد رسد گزرتی تھی۔ یہ راستہ خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی عالمی منڈیوں تک ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی سلامتی عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔