عمان کے ساتھ نئے ’ہرمز معاہدے‘ سے ایران کو خلیجی جہاز رانی پر بے مثال اختیارات کیسے ملیں گے؟

وہ سمندری راستہ جہاں تمام بین الاقوامی جہاز بغیر کسی فیس یا اجازت کے آزادانہ سفر کرتے تھے، اب کسی ایک ملک کی اجازت محتاج ہوں گے۔
شائع 06 اگست 2026 09:04am

امریکا اور ایران کے درمیان جاری پانچ ماہ طویل کشیدگی کے بعد خلیجی خطے کی اہم ترین سمندری راہداری آبنائے ہرمز پر علاقائی طاقت کا توازن تیزی سے بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران اور اس کے پڑوسی ملک عمان کے درمیان ایک ایسے اہم معاہدے پر بنیادی پیش رفت ہو چکی ہے جس کے تحت خلیج فارس میں داخل ہونے والے تمام تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی نگرانی کے اختیارات تہران کو حاصل ہو جائیں گے۔

تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ اس بین الاقوامی سمندری راستے پر، جہاں ماضی میں تمام بین الاقوامی جہاز بغیر کسی فیس یا اجازت کے آزادانہ سفر کرتے تھے، اب کسی ایک ملک کی اجازت محتاج ہوں گے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ”تہران اور مسقط نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی نئی سمندری راہداری کے جغرافیائی انتظام پر اتفاق کر لیا ہے اور دونوں ممالک اس سمجھوتے کے اہم نکات پر مبنی مشترکہ اعلامیے کو حتمی شکل دے رہے ہیں“۔

اس کے ساتھ ہی ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے انکشاف کیا ہے کہ ”نئے طریقہ کار کے تحت تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کی راہداری اس طرح ترتیب دی گئی ہے کہ جہازوں کے آنے اور جانے والے دونوں راستے بنیادی طور پر ایرانی سمندری حدود سے گزریں گے“۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ”تہران اور مسقط کے درمیان بنیادی باتیں طے پا چکی ہیں اور یہ پیش رفت حتمی مرحلے میں ہے“۔

اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو یہ ایران کے لیے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی سفارتی اور اسٹریٹیجک فتح تصور کی جائے گی۔ کیونکہ عالمی سطح پر خام تیل اور ایل این جی کی کُل سپلائی کا پانچواں حصہ یعنی 20 فیصد اسی تنگ راستے سے گزرتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، مجوزہ معاہدے کے تحت پرانی عارضی راہداریوں کو ختم کر کے ایک نیا راہداری نظام قائم کیا جائے گا، اور ایران نے اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کے سامان کی مالیت پر 5 سے 7 فیصد تک ٹرانزٹ فیس مانگی ہے، جبکہ عمان 3 فیصد کا حامی ہے اور امریکا کسی بھی قسم کی فیس عائد کرنے کے خلاف ہے۔

اس تمام تر سفارتی حل کے پیچھے تہران کی جانب سے خلیجی ممالک کو دی جانے والی وہ سخت اور واضح تنبیہ بھی شامل ہے جس نے امریکی فیصلے کو متاثر کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے اس کی تنصیبات پر حملہ کیا تو وہ پورے خطے کے توانائی کے ڈھانچے کو تباہ کر دے گا۔

ایک ایرانی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”دشمن ہماری تنصیبات کو دھمکیاں دے رہا ہے، اگر ایران کو نقصان پہنچا تو ہم اس سے کہیں زیادہ بڑا نقصان پہنچائیں گے اور انہیں اب بھی 2019 کا آرامکو حملہ یاد ہونا چاہیے“۔

رائٹرز کے ایک خلیجی ذریعہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ”ایران کی تنبیہ بالکل واضح تھی کہ امریکی حملے کی صورت میں وہ خلیجی توانائی کے مراکز کو نشانہ بنائیں گے، اسی لیے سعودی عرب کا ماننا ہے کہ مزید تنازع صرف تباہی لائے گا اور ریاض نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ سفارت کاری کو موقع دیں“۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی رواں سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیشِ نظر جنگ ختم کرنے کا شدید عوامی اور سیاسی دباؤ ہے۔

ٹرمپ نے نیواڈا میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بدلتے ہوئے موقف کا اظہار کیا اور کہا کہ ”میں سمجھوتہ کرنا پسند کروں گا کیونکہ میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا، میں انسانوں کو نہیں مارنا چاہتا“۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار حل کے لیے سفارتی راستے پر ہی عمل پیرا رہیں۔

تاہم اس معاہدے پر تاحال کچھ آپریشنل اور قانونی سوالات باقی ہیں، ایک ایرانی ذریعہ کا کہنا ہے کہ ”اصل چیلنج باریکیوں میں چھپا ہے، جہاں ٹرمپ کا ایک واحد ٹویٹ بھی اس پورے عمل کو منسوخ کر سکتا ہے“۔

Read Comments