بھارتی فلم 'رامائن' میں 'تاریخی' غلطی، تنازع کھڑا ہوگیا
بھارتی ہدایت کار نتیش تیواری کی نئی آنے والی فلم رامائن کا ٹریلر جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ٹریلر کے بعد لوگوں کی توجہ کہانی کے بجائے فلم کی اداکاراؤں کے لباس اور خاص طور پر ان کے سلے ہوئے بلاؤز پر مرکوز ہو گئی ہے۔
اس فلم کا بجٹ اربوں روپے ہے جس میں رنبیر کپور، سائی پلوی، سنی دیول اور راکیش روشن جیسے بڑے اداکار کام کر رہے ہیں۔
فلم کا ٹریلر سامنے آنےکے فوراً بعد سوشل میڈیا پر بہت سےصارفین نے سوال اٹھایا کہ قدیم زمانے میں جب بلاؤز کا رواج ہی نہیں تھا تو فلم میں سیتا کا کردار نبھانے والی سائی پلوی اور کیکئی کا کردار نبھانے والی لارا دتا سلے ہوئے اور کڑھائی والے بلاؤز پہنے کیوں نظر آ رہی ہیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لباس قدیم زمانے کے بجائے اج کل کے ڈراموں اور جدید دلہنوں سے زیادہ ملتا جلتا ہے۔
تاریخ اور فیشن کے ماہرین کے مطابق سلے ہوئے بلاؤز کا رواج ہندوستان میں چند سو سال پہلے انگریزوں کے دور میں شروع ہوا تھا۔ دہلی کے پرل اکیڈمی میں فیشن کی پروفیسر میتالی امبیکر نے اس بارے میں بتایا کہ قدیم ہندوستان میں کپڑے سلائی کے بجائے لپیٹے جاتے تھے، جس میں نیچے ایک کپڑا اور اوپر ایک اور کپڑا لپیٹا جاتا تھا۔
ان کے مطابق سلے ہوئے بلاؤز کا رواج صرف ڈیرھ سو سال پہلے انگریزوں کے دور کی شرم و حیا کے مفہوم کو اپنا کر شروع ہوا۔ پروفیسر کے مطابق سیتا کے زمانے کی عورتیں کھلے کپڑے پہنتی تھیں، اس لیے سلی ہوئی چولی اس دور سے میل نہیں کھاتی۔
قدیم دور پر مبنی ڈراموں کے کپڑوں اور مہابھارت سیریز کی معروف کاسٹیوم ڈیزائنر ندھی یاشا نے اس تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر بننے والی فلم میں کوئی فیصلہ غلطی سے نہیں ہوتا بلکہ یہ سب سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔
ندھی یاشا نے مزید کہا کہ اگر قدیم مجسموں اور فن پاروں کو مکمل طور پر بنیاد بنایا جائے تو بہت سی خواتین کو بغیر اوپری لباس کے دکھانا پڑے گا، لیکن موجودہ معاشرے میں ایسی پیشکش کو قبول کرنا آسان نہیں ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ آج کے دور میں مذہبی موضوعات پر کام کرنا بہت حساس ہے اور لوگ پرانے زمانے کے مندروں کی مورتیوں کی طرح بغیر بلاؤز کے کپڑوں کو شائد قبول نہ کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر لوگ ہندؤ دیوی دیوتاؤں کو پرانی تصویروں اور عقیدت کی نظر سے دیکھتے ہیں نہ کہ تاریخ کی باریکیوں سے۔
دوسری طرف فلم کے کاسٹیوم ڈیزائنرز رمپل اور ہرپریت نرولا نے تنقید کو مسترد کرتے ہوئے اپنی صفائی میں کہا کہ رامائن کے دور کے لباس کی کوئی ایک مستند تصویر یا تاریخی حوالہ موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ، ہم نے بلاؤز اس لیے نہیں دیا کہ ہم سیتا یا دیگر خواتین کو جدید دکھانا چاہتے تھے بلکہ ہمارا مقصد سیتا کے کردار میں سادگی، پاکیزگی اور عزت کو برقرار رکھنا تھا۔
فلم میں سیتا اور شورپنکھا کے ملبوسات کے فرق نے بھی سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں سیتا کو مکمل اور سادہ لباس میں دکھایا گیا ہے، وہیں شورپنکھا کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ راکول پریت سنگھ نسبتاً زیادہ نمایاں لباس میں نظر آتی ہیں، جس پر بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ کیا فلم ایک بار پھر نیک اور منفی کرداروں کو لباس کے ذریعے الگ دکھانے کی پرانی روایت اپنا رہی ہے۔
تاہم فلم کے کاسٹیوم ڈیزائنرز رمپل اور ہرپریت نرولا نے کہا، ”شورپنکھا کی شخصیت سیتا سے بالکل مختلف ہے، اس لیے اس کا لباس بھی مختلف رکھا گیا۔ ہمارا مقصد جدید فیشن دکھانا نہیں بلکہ کردار کی طاقت، خود اعتمادی اور منفرد انداز کو اجاگر کرنا تھا۔“
دوسری جانب فیشن ماہر میتالی امبیکر کا کہنا ہے کہ کسی کردار کی شناخت صرف لباس کے کھلے یا ڈھکے ہونے سے نہیں بلکہ رنگ، انداز، زیورات اور شخصیت سے بھی ظاہر کی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق، اس تنازع نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مذہبی فلموں میں لباس صرف ملبوسات نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، عقیدے اور سماجی تصورات سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔