امریکا میں پاکستانی سفارت خانے کے زیرِ اہتمام یومِ استحصالِ کشمیر پر خصوصی ویبنار کا انعقاد
امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارت خانے کے زیر اہتمام یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر خصوصی ویبینار منعقد کیا گیا، جس میں مسئلہ جموں و کشمیر، سندھ طاس معاہدے، جنوبی ایشیا میں بین الاقوامی قانون کو درپیش چیلنجز اور بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مقررین نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارت خانے کے زیر اہتمام یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر خصوصی ویبینار کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع ”جنوبی ایشیا میں بین الاقوامی قانون کو درپیش چیلنجز: مسئلہ جموں و کشمیر اور معاہدۂ سندھ طاس“ تھا۔
ویبینار کا آغاز صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات سے کیا گیا، جن میں کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ویبینار سے کشمیر سیویٹاس کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر فرحان مجاہد، فاؤنڈیشن فار امریکن سیکیورٹی اینڈ ٹیکنالوجی کے صدر علی عنار، صنوبر انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر قمر چیمہ، سابق مستقل مندوب سفیر منیر اکرم اور امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے خطاب کیا۔
مقررین اور کشمیری نمائندوں نے بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے پس منظر، اس کے اثرات اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
ویبینار میں شرکاء نے بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے، سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کی بھی مذمت کی۔
پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے سمیت ایسے اقدامات کر رہا ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریت کی روح کے منافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کے اقدامات کے سات سال بعد بھی مقبوضہ کشمیر میں معاشی دباؤ، سیاسی جبر، انسانی حقوق کی پامالی اور آبادیاتی تبدیلیوں کے باوجود کشمیری عوام کی مزاحمت برقرار ہے۔
سفیر رضوان سعید شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کا بنیادی تنازع ہے اور اس کا منصفانہ اور پُرامن حل ہی خطے میں دیرپا امن و استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔
انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان امن برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور یکطرفہ اقدامات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔
ڈاکٹر فرحان مجاہد نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں منظم انداز میں آبادی کا تناسب تبدیل کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ رائے شماری کے نتائج پر اثر انداز ہو سکے۔
ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہا کہ پانی انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور بھارتی آبی پالیسی سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
علی عنار نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں اور بھارت کا اقدام بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
سفیر منیر اکرم نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کے معاملے میں مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جس پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہیے۔
ویبینار کے اختتام پر مقررین اور شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو مثبت اور مؤثر سفارت کاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مزید اجاگر کرنے اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق تنازع کے حل کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرنی چاہییں۔
مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لے اور اس دیرینہ تنازع کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔