شمالی کوریا کا نئے بیلسٹک میزائل کا تجربہ، جنوبی کوریا نے الرٹ جاری کر دیا

جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان متوقع مشترکہ فوجی مشقوں سے قبل شمالی کوریا کے اس میزائل تجربے کو ممکنہ پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
شائع 06 اگست 2026 03:50pm

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا پر ایک بار پھر میزائل تجربے کا الزام عائد کیا ہے، جس کے بعد سیئول نے نگرانی اور دفاعی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنوبی کورین فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ شمالی کوریا نے جمعرات کو مختصر فاصلے تک مار کرنے والا ایک بیلسٹک میزائل جزیرہ نما کوریا کے مشرقی جانب واقع سمندر کی طرف فائر کیا ہے۔

جاپان کی حکومت نے بھی تصدیق کی کہ شمالی کوریا سے ایک ایسا میزائل داغا گیا ہے جو بظاہر بیلسٹک میزائل معلوم ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ تجربہ رواں سال شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے متعدد ہتھیاروں کے تجربات کا تسلسل ہے، جن میں مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل، راکٹ اور دیگر ٹیکٹیکل ہتھیار شامل ہیں۔

جنوبی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے ’کے سی این اے‘ کے مطابق شمالی کوریا نے آخری تصدیق شدہ ہتھیاروں کا تجربہ جون کے آخر میں کیا تھا، جس میں ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم، ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل اور خودکار ہووٹزر کا تجربہ کیا گیا تھا۔

جنوبی کوریا کی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ مزید ممکنہ میزائل تجربات کے پیش نظر نگرانی اور دفاعی تیاریوں کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جب کہ اس حوالے سے امریکا اور جاپان کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔

کیونگ نام یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار فار ایسٹرن اسٹڈیز کے پروفیسر لیم ایول چُل کے مطابق حالیہ میزائل تجربہ شمالی کوریا کی رہنما کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ کے حالیہ بیانات سے بھی منسلک ہو سکتا ہے، جن میں انہوں نے جاپان کی جانب سے ٹام ہاک میزائل کے تجربات اور اس کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں پر تنقید کی تھی۔

پروفیسر لیم کے مطابق یہ تجربہ جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان جلد متوقع مشترکہ فوجی مشقوں سے قبل سامنے آیا ہے، جسے پیانگ یانگ کی جانب سے ایک ممکنہ سیاسی اور عسکری پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

Read Comments