چار صوبے یا مضبوط پاکستان؟
قوموں کی زندگی میں کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقتی سیاست کے شور میں دبایا تو جا سکتا ہے، مگر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں نئے صوبوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ایک سوال ہے۔ یہ بحث کبھی جنوبی پنجاب کے نام سے سامنے آتی ہے، کبھی ہزارہ کے مطالبے کی صورت میں، کبھی کراچی کی انتظامی حیثیت پر گفتگو چھیڑ کر اور کبھی بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں کی محرومیوں کے ذکر سے۔ ہر بار سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفاد کے مطابق صف بندیاں کر لیتی ہیں، لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ کیا اکیسویں صدی کا پاکستان اسی انتظامی ڈھانچے کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے جو کئی دہائیاں پہلے تشکیل دیا گیا تھا؟
ریاستوں کی مضبوطی صرف ان کی فوجی طاقت، معیشت یا آبادی سے نہیں ہوتی بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں تک کتنی مؤثر انداز میں پہنچتی ہیں۔ اگر ایک کسان کو اپنی زمین کے مسئلے کے لیے سیکڑوں کلومیٹر دور جانا پڑے، ایک طالب علم کو اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے علاقے سے ہجرت کرنا پڑے، ایک مریض کو علاج کے لیے بڑے شہر کا رخ کرنا پڑے اور ایک سرمایہ کار کو ہر فیصلے کے لیے دارالحکومت کے چکر لگانے پڑیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں انتظامی ڈھانچے میں خامی موجود ہے۔
پاکستان کی آبادی آزادی کے وقت تقریباً ساڑھے تین کروڑ تھی۔ آج یہ 25 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ شہروں کا پھیلاؤ، معاشی سرگرمیوں کی نوعیت، مواصلاتی نظام، صنعتی ضروریات اور عوامی توقعات سب بدل چکی ہیں، مگر ہمارے انتظامی ڈھانچے میں وہ تبدیلی نہیں آئی جس کی ضرورت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وسائل کی تقسیم، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولتوں کے حوالے سے شکایات بڑھتی جا رہی ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے وقت کے ساتھ اپنے انتظامی نظام میں تبدیلیاں کیں۔ بھارت نے نئی ریاستیں قائم کیں، نائجیریا نے اپنی ریاستوں کی تعداد بڑھائی، کئی دوسرے ممالک نے بھی انتظامی اکائیوں کو عوامی ضروریات کے مطابق ازسرِنو ترتیب دیا۔ کسی نے اسے قومی وحدت کے خلاف سازش قرار نہیں دیا بلکہ بہتر حکمرانی کا ذریعہ سمجھا۔
پاکستان میں بدقسمتی سے نئے صوبوں کی بحث کو اکثر لسانی یا نسلی رنگ دے دیا جاتا ہے، حالانکہ اصل سوال زبان کا نہیں بلکہ انتظامی استعداد کا ہے۔ اگر کسی صوبے کی آبادی کئی ممالک سے زیادہ ہو، اگر کسی شہر کی معیشت پورے ملک کا بوجھ اٹھا رہی ہو، اگر کسی علاقے کے لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہوں، تو کیا ریاست پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ اپنے انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی کرے؟
جنوبی پنجاب کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے وہاں کے عوام یہ احساس ظاہر کرتے رہے ہیں کہ ترقیاتی منصوبوں، سرکاری ملازمتوں، تعلیمی اداروں اور فیصلہ سازی میں ان کا حصہ ان کی آبادی اور ضروریات کے مطابق نہیں۔ اس مطالبے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ ملک کی بڑی بندرگاہیں، صنعت، بینکاری، تجارت اور ٹیکس وصولی کا ایک بڑا حصہ اسی شہر سے وابستہ ہے۔ مگر ٹریفک، پانی، کچرا، شہری منصوبہ بندی اور بنیادی سہولتوں کے مسائل مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ سوال پوچھنا بجا ہے کہ کیا اتنے بڑے شہری مرکز کے لیے موجودہ انتظامی ڈھانچہ کافی ہے یا اس پر نئے سرے سے غور کرنے کی ضرورت ہے؟
بلوچستان کا معاملہ اس سے بھی مختلف ہے۔ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ، مگر آبادی دور دور تک پھیلی ہوئی۔ کئی علاقوں میں سرکاری خدمات تک رسائی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر بہتر انتظامی تقسیم کے ذریعے عوام کو ریاست کے قریب لایا جا سکتا ہے تو اس تجویز کو تعصب کے بجائے تدبر سے دیکھنا چاہیے۔
یقیناً نئے صوبے بنانا کوئی جادوئی حل نہیں۔ اگر صرف نقشے پر نئی لکیر کھینچ دی جائے اور پرانا طرز حکمرانی برقرار رہے تو عوام کی مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔ نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ طاقتور بلدیاتی نظام، شفاف احتساب، مالی خودمختاری، میرٹ پر مبنی تقرریاں اور جدید سول سروس بھی ناگزیر ہیں۔ ورنہ صرف نئے دارالحکومت اور نئی سرکاری عمارتیں وجود میں آئیں گی، عوام کی زندگی نہیں بدلے گی۔
نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والوں کا یہ اعتراض بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ نئے صوبوں سے اخراجات بڑھیں گے۔ بلاشبہ نئی اسمبلیاں، سیکریٹریٹ، عدالتیں اور دفاتر قائم کرنا آسان نہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ناقص حکمرانی کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ جب منصوبے ناکام ہوں، وسائل ضائع ہوں، سرمایہ کاری رکے اور عوام ریاست سے بدظن ہوں تو اس کی معاشی اور سماجی قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ نئے صوبے کتنے ہوں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کو یکساں مواقع کیسے ملیں۔ اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ اس مقصد کو پورا نہیں کر پا رہا تو اس پر نظرثانی میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ آئینِ پاکستان بھی اس کی گنجائش دیتا ہے، بشرطیکہ تمام آئینی تقاضے پورے کیے جائیں اور قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ ایک خودمختار قومی کمیشن تشکیل دے جس میں آئینی ماہرین، ماہرینِ معیشت، انتظامی افسران، آبادیاتی ماہرین اور تمام صوبوں کی نمائندگی موجود ہو۔ یہ کمیشن جذبات نہیں بلکہ اعداد و شمار، وسائل، آبادی، جغرافیہ اور انتظامی ضرورت کی بنیاد پر سفارشات مرتب کرے۔ پھر ان سفارشات پر کھلی قومی بحث ہو اور جو فیصلہ ہو، وہ پاکستان کے اجتماعی مفاد میں ہو۔
ریاستیں جامد نہیں ہوتیں۔ وہ بدلتے حالات کے مطابق اپنے اداروں کو بھی بدلتی ہیں۔ جو قومیں تبدیلی سے خوف کھاتی ہیں، وہ وقت کے دھارے میں پیچھے رہ جاتی ہیں، اور جو قومیں دانش مندی سے اصلاحات کرتی ہیں، وہ آگے بڑھتی ہیں۔
پاکستان کو آج کسی نئے تنازع کی نہیں بلکہ ایک نئے انتظامی وژن کی ضرورت ہے۔ ایسا وژن جو ہر علاقے کو مساوی اہمیت دے، ہر شہری کو ریاست کے قریب لائے اور ہر خطے کو یہ احساس دلائے کہ وہ اس وفاق کا برابر کا شریک ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
