میٹا پر بچوں کی صحت خراب کرنے پر بڑا جرمانہ، عدالت کا رقم ادا کرنے کا حکم

میٹا کمپنی نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔
اپ ڈیٹ 07 اگست 2026 10:23am

امریکی ریاست نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا کی معروف کمپنی میٹا کو بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے اور انہیں انٹرنیٹ کے خطرات سے صحیح طرح نہ بچانے کے جرم میں 567 ملین ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے اور اپنے پلیٹ فارمز میں اہم تبدیلیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کمپنی نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار ہے اور اس نے اپنے ایپس کے ذریعے بچوں کی زندگیوں پر برا اثر ڈالا ہے۔

برطانوی خبرساں ایجبسی رائٹرز کے مطابق یہ فیصلہ سانتا فے کے جج برائن بیڈشائیڈ نے سنایا۔ انہوں نے ڈیموکریٹ اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی چیزیں بنائیں جن کی وجہ سے بچوں کو ان کی لت لگ گئی اور وہ خطرات کا شکار ہوئے۔ اٹارنی جنرل نے میٹا پر الزام لگایا تھا کہ اس نے بچوں کو نقصان دہ چیزوں اور جنسی استحصال سے بچانے کے لیے ضروری قدم نہیں اٹھائے۔

یہ مقدمہ نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راول ٹوریز نے دائر کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ میٹا نے اپنے کاروباری مفادات کو بچوں کی حفاظت پر ترجیح دی، جس کے باعث نوجوانوں کی ذہنی صحت متاثر ہوئی۔

فیصلے کے بعد راول ٹوریز نے کہا، ”میٹا نے بچوں کی حفاظت کے بجائے منافع کو ترجیح دی۔“ انہوں نے مزید کہا، ”یہ صرف ایک کمپنی کے خلاف فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسا نمونہ ہے جس پر چلتے ہوئے دوسری ریاستیں اور دیگر ممالک بھی اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔“

یہ مقدمہ دو حصوں میں چلا تھا۔ اس سے پہلے مارچ میں ایک جیوری نے کمپنی کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا کہ اس نے فیس بک اور انسٹاگرام کی حفاظت کے بارے میں لوگوں سے سچ نہیں بولا اور بچوں کی ذہنی صحت کو پہنچنے والے نقصان کو چھپایا۔ اس وقت کمپنی پر 375 ملین ڈالر کا جرمانہ لگایا گیا تھا اور اب دوسرے مرحلے میں عدالت نے مزید رقم ادا کرنے کا حکم سنایا ہے۔

عدالت کے نئے حکم کے مطابق اس رقم میں سے 420 ملین ڈالر بچوں کے علاج اور ان کی دیکھ بھال کی سہولیات پر خرچ کیے جائیں گے جبکہ باقی رقم اگلے پانچ سالوں میں بیماریوں سے بچاؤ، آگاہی مہمات اور جانچ پڑتال کے پروگراموں پر خرچ ہو گی۔

اس کے علاوہ عدالت نے کمپنی کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کے لیے اپنے ایپ پر نئی پابندیاں اور اقدامات شامل کرے۔ ان اقدامات میں فیس بک اور انسٹاگرام استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کے لیے ماہانہ استعمال کی حد مقرر کرنا، غیر ضروری نوٹیفکیشنز محدود کرنا، بالغ افراد اور کم عمر صارفین کے درمیان رابطوں پر مزید سخت نگرانی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹس کے لیے حفاظتی اقدامات اور بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق شکایات کا زیادہ مؤثر جائزہ لینا شامل ہے۔

عدالت کے جج برائن بیڈسچیڈ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ جس طرح کسی فیکٹری سے نکلنے والا زہریلا دھواں اور آلودگی لوگوں کی صحت اور صاف ہوا کے حق کو نقصان پہنچاتی ہے، بالکل اسی طرح میٹا کے پلیٹ فارمز کا بچوں پر پڑنے والا زہریلا اثر صرف ایپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ حقیقی دنیا میں پھیل کر بچوں، ان کے خاندانوں، اسکولوں، ہسپتالوں اور پولیس کے لیے ایک بڑا معاشرتی بوجھ اور نقصان بن جاتا ہے۔

تاہم عدالت نے نیو میکسیکو کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مطالبات منظور نہیں کیے۔ جج نے کہا کہ کمپنی کے الگورتھمز، انفنٹ اسکرول اور آٹو پلے جیسے فیچرز میں بعض بنیادی تبدیلیاں امریکی آئین میں دیے گئے اظہارِ رائے کے حقوق اور دیگر قانونی معاملات سے متصادم ہو سکتی ہیں، اس لیے ان پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔

دوسری طرف میٹا کمپنی نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نقصان دہ مواد کو ہٹانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ میٹا کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم آن لائن نوجوانوں کی حفاظت سے متعلق اپنے ریکارڈ پر پورا اعتماد رکھتے ہیں اور ان تمام دعوؤں کے خلاف اپنا دفاع جاری رکھیں گے جو حقائق کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں۔

میٹا نے عدالت میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ اس کے پلیٹ فارمز ہی نوجوانوں کے استعمال کا واحد ذریعہ نہیں، اس لیے صرف کمپنی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ نیو میکسیکو کی جانب سے تجویز کردہ بعض تبدیلیاں تکنیکی طور پر بہت مشکل یا تقریباً ناممکن ہیں اور ان پر عمل درآمد سے کمپنی کو ریاست میں اپنی سروسز محدود کرنا پڑ سکتی ہیں۔ تاہم عدالت نے ان دلائل کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔

اس کیس کے بعد امریکہ کی دیگر ریاستوں میں بھی سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف چلنے والے مقدمات میں تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کی اہمیت صرف نیو میکسیکو تک محدود نہیں رہے گی۔ امریکہ کی 40 سے زائد ریاستیں اور 1,300 سے زیادہ اسکول ڈسٹرکٹس پہلے ہی سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف اسی نوعیت کے مقدمات دائر کر چکے ہیں۔

آئندہ ہفتے کیلیفورنیا میں بھی میٹا کے خلاف ایک اور بڑا مقدمہ شروع ہونے جا رہا ہے، جس میں 29 امریکی ریاستیں الزام لگا رہی ہیں کہ کمپنی نے فیس بک اور انسٹاگرام کو اس انداز میں تیار کیا جس سے بچے ان کے عادی بن گئے اور صارفین کو ان پلیٹ فارمز کی حفاظت کے بارے میں گمراہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ٹینیسی میں بھی میٹا کے خلاف ایک مقدمہ زیر سماعت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مختلف عدالتوں میں بھی اسی نوعیت کے فیصلے آتے رہے تو مستقبل میں دنیا بھر کی بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں اور نوجوانوں کی آن لائن حفاظت کے حوالے سے مزید سخت قوانین اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Read Comments