سیکیورٹی کی ضمانت ملے تو وطن واپس آکر مقدمات کا سامنا کروں گا: شکیب الحسن

بنگلہ دیش میں الوداعی سیریز کھیلنے اور 2027 ورلڈ کپ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کا خواہاں ہوں: آل راؤنڈر
شائع 07 اگست 2026 05:22pm

بنگلہ دیش کے مایہ ناز آل راؤنڈر اور سابق کپتان شکیب الحسن نے کہا ہے کہ اگر حکومت ان کی سیکیورٹی کی ضمانت دے تو وہ فوری طور پر وطن واپس آکر اپنے خلاف قائم مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بنگلہ دیش میں الوداعی سیریز کھیلنے اور 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں بھی اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کے خواہاں ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو سری لنکا سے ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے 39 سالہ شکیب الحسن نے کہا کہ ”اگر حکومت مجھے کلیئرنس دے اور میری سیکیورٹی یقینی بنائے تو میں خوشی سے واپس جاؤں گا، عدالت کا سامنا کروں گا اور جو کچھ بھی قانون کے مطابق ضروری ہوگا، وہ کروں گا۔ مجھے معلوم ہے کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔“

شکیب الحسن، جو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کے رکن پارلیمان بھی رہ چکے ہیں، اگست 2024 میں شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے امریکا میں مقیم ہیں اور وہ اپنی اہلیہ اور تین بچوں کے ساتھ نیویارک کے لانگ آئی لینڈ میں رہتے ہیں۔

بنگلہ دیشی کرکٹر نے کہا کہ وہ ابھی تک بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر نہیں ہوئے اور ان کی خواہش ہے کہ اپنے ملک میں ایک الوداعی سیریز کھیلیں جب کہ 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں بھی بنگلہ دیش کی نمائندگی کریں۔

شکیب الحسن نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح فوری وطن واپسی ہے تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو وہ دسمبر میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے ساتھ واپس آنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ“کپتان جو فیصلہ کریں گے، ہم اسی پر عمل کریں گے۔ میرے خیال میں وہ بہتر فیصلہ کریں گے اور ہم ان کی ہدایات پر چلیں گے۔“

واضح رہے کہ شیخ حسینہ، جو حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت میں مقیم ہیں، بنگلہ دیش میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے مقدمے میں عدم موجودگی میں سزائے موت پا چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس کریک ڈاؤن میں تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ شیخ حسینہ پہلے ہی اعلان کر چکی ہیں کہ وہ دسمبر میں اپنی جماعت کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ رضاکارانہ طور پر بنگلہ دیش واپس جائیں گی۔

شکیب الحسن نے بدھ کے روز نئی دہلی میں شیخ حسینہ کے ساتھ ورچوئل پریس کانفرنس میں شرکت کا بھی دفاع کیا۔ اس پریس کانفرنس کے بعد بنگلہ دیش میں ان کے خالی گھر پر حملہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے خطاب میں صرف امن اور بنگلہ دیش کی ترقی کی بات کی تھی اور انہیں اس پر کسی قسم کا افسوس نہیں۔

بنگلہ دیشی آل راؤنڈر نے بتایا کہ انہوں نے اپنے وکیل کے ذریعے عبوری حکومت کے دور میں وزارت داخلہ، وزارت قانون، وزارت کھیل اور پولیس حکام کو خطوط لکھے تھے، جن میں ان کے بقول ”من گھڑت مقدمات“ ختم کرنے کی درخواست کی گئی تھی تاہم انہیں کسی ادارے کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ موجودہ وزیراعظم طارق رحمان سے بھی ملاقات کرکے اپنی وطن واپسی کے معاملے پر بات کرنا چاہتے ہیں تاہم وزیراعظم کے ترجمان نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

کرکٹ کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے شکیب الحسن نے کہا کہ وہ اس وقت دنیا بھر کی مختلف فرنچائز لیگز کھیل رہے ہیں، خود کو فٹ محسوس کرتے ہیں اور کھیل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تاہم عمر اب ان کے حق میں نہیں، اس لیے وہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ زیادہ دیر تک مؤخر نہیں کرسکتے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ 2024 کے آخر میں وہ حکومتی یقین دہانی پر بنگلہ دیش واپس آنے کے لیے جہاز میں سوار ہوگئے تھے۔ روانگی سے قبل انہوں نے ایئرپورٹ لاؤنج سے حکام کو اطلاع بھی دی لیکن دورانِ پرواز انہیں واپس مڑنے کا کہا گیا، جس کے بعد وہ دبئی اترے اور وہاں سے دوبارہ نیویارک چلے گئے۔

شکیب الحسن نے کہا کہ انہیں آج تک معلوم نہیں کہ صرف 12 گھنٹوں میں ایسا کیا بدل گیا جب کہ اس سفر کی تیاری پانچ سے سات روز تک جاری رہی تھی۔

بعد ازاں ایک اور منصوبہ بھی اس وقت ناکام ہوگیا جب انہوں نے سوشل میڈیا پر شیخ حسینہ کو سالگرہ کی مبارکباد دی۔ شکیب کے مطابق حکام نے اسی پوسٹ کو ان کی وطن واپسی روکنے کی وجہ قرار دیا، جس پر انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ کسی کو ملک میں داخلے سے روکنے کا یہ کیسے معیار ہوسکتا ہے۔

شکیب الحسن نے اس تاثر کو بھی مسترد کردیا کہ اگر وہ شیخ حسینہ یا عوامی لیگ سے لاتعلقی اختیار کرلیں تو ان کی وطن واپسی آسان ہوسکتی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ”ایسا کرنے کا میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔“

یاد رہے کہ 2024 میں عبوری حکومت کے اس وقت کے مشیر برائے کھیل آصف محمود نے کہا تھا کہ شکیب الحسن کو دیگر کھلاڑیوں کی طرح سیکیورٹی فراہم کی جائے گی تاہم عوامی غصہ کم کرنے کے لیے انہیں اپنی سیاسی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔

بنگہ دیشی کرکٹر نے بتایا کہ اس وقت ان کے خلاف دو مقدمات فعال ہیں، جن میں ایک طالب علم تحریک کے دوران ایک مظاہرین کے قتل کا مقدمہ اور دوسرا انسداد بدعنوانی کے ادارے کی جانب سے دائر کیا گیا کرپشن کا مقدمہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قتل کا مقدمہ اس روز درج کیا گیا جب وہ ٹورنٹو میں کرکٹ میچ کھیل رہے تھے۔

انہوں نے اس مقدمے کو ”مضحکہ خیز“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابھی تک اپنے دفاع کے لیے کوئی وکیل مقرر نہیں کیا۔

شکیب الحسن نے مزید بتایا کہ تحقیقات کے نام پر گزشتہ ڈیڑھ سال سے ان کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد ہیں تاہم انہوں نے بینکوں کے نام یا منجمد رقم کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 10 برس سے بنگلہ دیش کے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل رہے ہیں، تمام ٹیکس ادا کیے ہیں، اس کے باوجود ان کے اکاؤنٹس منجمد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ”میں تمام مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن اگر کچھ نہیں ملتا تو پھر میرے اکاؤنٹس بحال کر دیے جائیں۔“

شکیب الحسن نے کہا کہ گزشتہ دو برس سے وہ اپنے والدین سے بھی نہیں مل سکے، جو اب بھی بنگلہ دیش میں موجود ہیں جب کہ ان کے مطابق انہیں ملک سے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ وقت ہم سب کے لیے بہت مشکل رہا ہے لیکن ہم کسی نہ کسی طرح گزارا کر رہے ہیں۔“

Read Comments