ٹرمپ کو بڑا دھچکا، امریکی عدالت نے وائٹ ہاؤس میں بال روم کی تعمیر روک دی

امریکی اپیل عدالت نے کانگریس کی منظوری تک منصوبے پر عمل درآمد روکنے کا حکم برقرار رکھا۔
شائع 07 اگست 2026 10:47pm

امریکا کی وفاقی اپیل عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں 40 کروڑ ڈالر لاگت سے تعمیر کیے جانے والے نئے بال روم کے منصوبے پر عمل درآمد روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر وائٹ ہاؤس کے بنیادی ڈھانچے میں اس نوعیت کی بڑی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق واشنگٹن میں قائم امریکی وفاقی اپیل عدالت نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس کے مشرقی حصے (ایسٹ ونگ) کی جگہ زیرِ تعمیر 40 کروڑ ڈالر مالیت کے بال روم پر زمین سے اوپر ہونے والے تمام تعمیراتی کام روکنے کا حکم برقرار رکھا۔

دو کے مقابلے میں ایک جج کی اکثریتی رائے سے جاری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ ہر صدر وائٹ ہاؤس کا مستقل مالک نہیں بل کہ عارضی مکین ہوتا ہے، اس لیے وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر اس تاریخی عمارت کی بنیادی ساخت میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ایک بڑے بال روم کی تعمیر کا فیصلہ انتظامیہ نہیں بل کہ کانگریس کو کرنا ہے۔ عدالت کے مطابق کانگریس نے کبھی بھی انتظامیہ کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ اپنی صوابدید پر وائٹ ہاؤس کی ازسرِ نو تعمیر یا اس کی بنیادی شکل تبدیل کر سکے۔

یہ مقدمہ نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن نے دائر کیا تھا، جس کا مؤقف تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کی منظوری حاصل کیے بغیر ایسٹ ونگ کو منہدم کر کے تقریباً 90 ہزار مربع فٹ رقبے پر مشتمل بال روم کی تعمیر شروع کر دی، جو قانون کے منافی ہے۔

اپیل عدالت نے اپنے فیصلے پر 14 روز کے لیے عمل درآمد مؤخر بھی کر دیا ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ اس دوران امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کر سکے۔ اس سے قبل ضلعی عدالت بھی زمین سے اوپر تعمیراتی سرگرمیاں روک چکی تھی، تاہم زیرِ زمین کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نئے بال روم کی تعمیر بڑی سرکاری تقریبات کے انعقاد اور وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ محکمہ انصاف نے عدالت میں یہ استدلال بھی دیا کہ منصوبہ نجی فنڈنگ سے مکمل کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت کو اس میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں۔

تاہم اپیل عدالت نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کا حوالہ قانون سے بالاتر ہونے کا جواز نہیں بن سکتا اور انتظامیہ آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس جیسے تاریخی مقام کی بنیادی ساخت تبدیل نہیں کر سکتی۔

Read Comments