'اسلحے میں کمی کا خدشہ'؛ امریکی آرمی چیف کا ٹرمپ کو ایران جنگ سے نکلنے کا مشورہ

امریکی جنرل نے ٹرمپ کے مشیروں کو خبردار کیا ہے کہ کشیدگی میں مزید اضافہ الٹا اثر دکھا سکتا ہے
شائع 08 اگست 2026 09:43am

امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کو ایران کے ساتھ جاری جنگ میں کشیدگی کم کرنے اور تنازع ختم کرنے کا راستہ تلاش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے جمعے کو تین ایسے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے جو ان معاملات سے واقف تھے۔

رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین نے اپنے تحفظات اعلیٰ حکام کے ساتھ نجی ملاقاتوں میں پیش کیے، جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین اور دیگر اعلیٰ حکام کا خیال ہے کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے ایران کو امریکی مطالبات ماننے پر مجبور کرنا مشکل ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی محدود نتائج دے سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

سی این این کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ زمینی فوج ایران میں بھیجنے سے گریز کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم انتظامیہ میں اس بات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ فضائی حملوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کی صورت میں امریکا کو مزید فوجی اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنرل ڈین کین اور دیگر اعلیٰ حکام جولائی کے آخر میں ایران کے خلاف مجوزہ مزید بڑے فوجی آپریشن کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات رکھتے تھے۔

ان خدشات میں ایران کی جانب سے امریکی اتحادی ممالک اور خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کا امکان بھی شامل تھا۔

رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک نے بھی ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خطرے سے امریکا کو خبردار کیا تھا، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے بالآخر مجوزہ آپریشن مؤخر کیا۔

سی این این نے امریکی فوج کے ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کی بھی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طویل جنگ کی صورت میں امریکا کو فضائی دفاع کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں اور دیگر انتہائی درست نشانے والے ہتھیاروں کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے، جس سے واشنگٹن کے لیے طویل عرصے تک جنگ جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر انہیں کارروائی کا حکم دیا گیا تو امریکی فوج ایران کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سی این این کے مطابق اس صورتحال میں امریکی انتظامیہ اب ایسے ممکنہ نتیجے کی تلاش میں ہے جسے صدر ٹرمپ سیاسی فتح کے طور پر پیش کرسکیں، جبکہ سفارتی بات چیت کے لیے بھی راستہ کھلا رہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے ممکنہ معاہدے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار ہوسکے۔

Read Comments