یمن میں دوبارہ لڑائی کیوں شروع ہوئی، سعودی عرب اور ایران کا اس سے کیا تعلق ہے؟
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے سائے مزید گہرے ہو رہے ہیں کیونکہ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے امریکی اتحادیوں پر حملوں کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے ایک اور اہم سمندری تجارتی راستے ’باب المندب‘ کو بند کر دیا ہے۔
خطے کی مضبوط ترین ملیشیاؤں میں شمار ہونے والے حوثی باغی، رواں سال مارچ میں اس وقت جنگ میں شامل ہوئے جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ حوثی باغی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ برسرِپیکار ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ چار سالہ غیراعلانیہ جنگ بندی کو ختم کر کے وہاں بھی حملے کر رہے ہیں۔
یہ نئی کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کا تحفظ شدید خطرات سے دوچار ہے۔ اس بگڑتی ہوئی صورتحال نے یمن میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر خانہ جنگی کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اس سے قبل 2014 میں شروع ہونے والی پچھلی جنگ کے دوران دنیا کا بدترین انسانی بحران پیدا ہوا تھا۔
یمن کی اس جنگ کی تاریخ ایک دہائی پرانی ہے، جو بنیادی طور پر حوثی باغیوں اور سعودی قیادت میں قائم اس اتحاد کے درمیان ہے جو یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔
حوثی باغی یمن کی زیدی شیعہ اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں باضابطہ طور پر ’انصار اللہ‘ کہا جاتا ہے۔ 2011 کی عرب اسپرنگ کے بعد انہوں نے یمن کے شمالی حصے اور دارالحکومت صنعا سمیت بحیرہ احمر کے ساحلی پٹی کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا جو آج بھی ان کے کنٹرول میں ہے۔ اس دوران وہ ایران کے قائم کردہ ’مزاحمتی بلاک‘ کا حصہ بنے اور وہاں سے اسلحہ اور جدید ٹیکنالوجی حاصل کی۔
سعودی عرب نے 2015 میں ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کر کے حوثیوں کو نکالنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا۔ سال 2022 میں ایک عارضی جنگ بندی تو ہوئی لیکن وہ مستقل امن میں نہ بدل سکی اور سعودی عرب نے حوثی علاقوں کی اقتصادی اور فضائی ناکہ بندی برقرار رکھی، جسے توڑنے کے لیے حوثیوں نے اب دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔
حوثی اب سعودی عرب کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں اور انہوں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع اہم ترین تجارتی راستے، آبنائے باب المندب میں سعودی جہاز رانی پر ناکہ بندی لگا دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثی گروہ ایران جنگ کا فائدہ اٹھا کر اپنے پرانے نقصانات پورے کرنا چاہتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق، اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس کے سابق سربراہ ڈینی سیٹرینووچ کا کہنا ہے کہ ”ریاض کے مسئلے کی اصل وجہ یہ ہے کہ حوثی اب ایک سیاسی اور عسکری حد عبور کر چکے ہیں۔ وہ اب کسی ایسی پرانی صورتحال پر واپس جانے کو تیار نہیں جہاں سعودی عرب ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر زمینی یا سمندری ناکہ بندی برقرار رکھے اور انہیں کوئی جوابی کارروائی نہ جھیلنی پڑے“۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ”حوثی بھی ایران کی اسٹریٹیجک سوچ پر چل رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وقت ان کے حق میں کام کر رہا ہے“۔
سی این این کے مطابق، سعودی عرب کے لیے اس جنگ میں دوبارہ الجھنا ایک بڑا خطرہ ہے کیونکہ پچھلے دس سال سے وہ اپنی معیشت کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھولنے اور خود کو خطے کا سب سے بڑا معاشی مرکز بنانے پر توجہ دے رہا تھا۔ اسی وجہ سے اس نے 2023 میں چین کی ثالثی کے ذریعے ایران کے ساتھ تعلقات بھی بحال کیے تھے۔
لیکن اب ایک سعودی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ ”ہمیں سعودی عرب، امریکا اور دیگر علاقائی ممالک سے متعدد انٹیلی جنس رپورٹیں ملی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراقی عسکریت پسند گروپ حوثیوں کے ساتھ مل کر ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی نگرانی میں بہت جلد سعودی عرب پر مربوط اور بڑے حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں“۔
انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ یہ رپورٹیں اس وقت سامنے آئیں جب سعودی عرب کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ڈینی سیٹرینووچ کے مطابق ”سعودی عرب اب ایک مشکل انتخاب کے درمیان پھنس چکا ہے، جہاں جنگ بڑھانے سے طویل اور غیر متوقع نقصان ہو سکتا ہے اور بڑی رعایتیں دینے سے حوثی مستقبل میں مزید طاقتور ہو جائیں گے“۔
اس کشیدگی کے معاشی اور انسانی اثرات دونوں فریقین کے لیے انتہائی سنگین ہیں۔ سعودی عرب کے لیے یہ صورتحال اس لیے نقصان دہ ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد وہ اپنا لاکھوں بیرل خام تیل برآمد کے لیے بحیرہ احمر منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن حوثیوں نے وہاں بھی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔
ریسٹاڈ انرجی ریسرچ ادارے کے نائب صدر راہول چوہدری کے مطابق حوثیوں کی ناکہ بندی کے بعد باب المندب سے گزرنے والا سعودی تیل آدھا رہ گیا ہے اور اب صرف 15 لاکھ بیرل تیل روزانہ گزر پا رہا ہے جبکہ پہلے یہ مقدار 32 لاکھ بیرل تھی۔
دوسری طرف یمن کے لیے خطرہ یہ ہے کہ اگر دوبارہ مکمل خانہ جنگی شروع ہوئی تو وہ دنیا کے بدترین انسانی بحران میں واپس چلا جائے گا۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق پچھلی جنگ میں ہزاروں لوگ مارے گئے، معیشت تباہ ہوئی اور تین چوتھائی آبادی یعنی 22 ملین سے زائد لوگ امداد کے محتاج ہو گئے تھے۔ اب دوبارہ جنگ شروع ہونے سے یمن کی معیشت اور عوام پر اس سے بھی زیادہ ہولناک اثرات پڑ سکتے ہیں۔