ایران نے جنگ میں تباہ ہونے والے مبینہ امریکی لڑاکا طیارے نمائش کے لیے پیش کردیے

ایرانی حکام کی جانب سے طیارے کی باقیات کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی ویڈیو اور تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں
شائع 08 اگست 2026 12:41pm

ایران نے جنگ کے دوران تباہ کیے گئے امریکی لڑاکا طیاروں کی باقیات پہلی بار نمائش کے لیے پیش کردی ہیں۔

جاری کی گئی تصاویر اور ویڈیو میں امریکی ایف-15 لڑاکا طیارے (ای اسٹرائیک ایگل) کی مبینہ باقیات بھی دکھائی گئی ہیں۔ نمائش میں طیارے کی ایجکشن سیٹ، کونوپی اور دُم سمیت دیگر حصے رکھے گئے ہیں۔

ایرانی حکام کی جانب سے طیارے کی باقیات کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی ویڈیو اور تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں، جن میں نمائش کے مقام پر جنگی طیارے کے مختلف حصے واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

ایران کی جانب سے یہ نمائش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں اور ایرانی جوابی حملوں سے متعلق دعوے اور جوابی دعوے مسلسل سامنے آتے رہے ہیں۔

ایوی ایشنسٹ کی رپورٹ کے مطابق نمائش میں موجود ملبے سے اب تصدیق کی جا سکتی ہے کہ ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل کا طیارہ ایئر فریم نمبر 00-3000 تھا، جسے ڈوڈ 44 کے نام سے شناخت کیا گیا ہے۔ طیارے کی باقیات ایران میں زیرِ زمین بنائے گئے کمروں میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔

نمائش میں ایف-15 ای کے علاوہ امریکی ایم کیو- 1 پریڈیٹر اور ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کا ملبہ بھی شامل ہے۔ امریکی فضائیہ کے کئی ایم کیو 9 ریپر ڈرونز آپریشن ایپک فیوری کے دوران ضائع ہوئے، جس سے امریکی ڈرون بیڑے پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

امریکی فضائیہ کے سربراہ نے ماضی میں ایم کیو 9 کو ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کا ’سب سے قیمتی‘ اثاثہ قرار دیا تھا، تاہم اس ڈرون کی کم رفتار اور محدود دفاعی صلاحیتیں اسے فضائی دفاعی نظام کے لیے نسبتاً آسان ہدف بنا سکتی ہیں۔

نمائش میں موجود ملبے میں ایف-پندرہ ای اسٹرائیک ایگل کی کینوپی اور پائلٹ کو ہنگامی حالت میں طیارے سے باہر نکالنے والی اے سی ای ایس دوم ایجکشن سیٹ بھی شامل ہے۔ دستیاب تصاویر میں ایجکشن سیٹ طیارے کے دیگر حصوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ محفوظ حالت میں نظر آتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈوڈ چوالیس کو اپریل کے آغاز میں ایران کے اوپر مار گرایا گیا تھا۔ طیارے کے بارے میں دستیاب معلومات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس کا تعلق برطانیہ میں قائم امریکی فضائیہ کے 48ویں فائٹر ونگ سے تھا۔ اس ونگ نے آپریشن ایپک فیوری کے لیے اپنے نصف سے زیادہ فعال جنگی طیارے، جن میں ایف-15 ای اور ایف-35 اے بھی شامل تھے، خطے میں بھیجے تھے۔

نمائش میں مبینہ طور پر اس ریسکیو مشن سے متعلق بعض امریکی سی-130 طیاروں کا ملبہ بھی شامل ہے جو DUDE 44 کے ویپن سسٹمز آفیسر کو واپس لانے کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران تباہ ہوئے تھے۔ تاہم جاری کی گئی تصاویر میں ان طیاروں کی باقیات کی فوری طور پر واضح شناخت نہیں ہو سکی۔ رپورٹ کے مطابق یہ طیارے اس وقت امریکی اہلکاروں نے خود تباہ کیے جب وہ عارضی لینڈنگ کے مقام پر پھنس گئے تھے۔ اس کارروائی میں ایم ایچ-6 اور اے ایچ-6 لٹل برڈ ہیلی کاپٹر بھی شامل تھے۔

ایرانی نمائش میں اسرائیلی ساختہ ہرمیز ڈرونز کی باقیات بھی رکھی گئی ہیں۔ ان میں ہرمیز 900 کا ایک ڈرون، سیریل نمبر 923، بھی شامل ہے جو کافی حد تک مکمل حالت میں دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ڈرون مارچ میں مار گرایا گیا تھا اور اس پر موجود ہتھیار بھی باقیات کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران گرائے جانے والے طیاروں اور ڈرونز کا ملبہ دشمن کے لیے اہم معلومات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ عام طور پر اگر کسی طیارے میں حساس آلات یا دستاویزات موجود ہونے کا خدشہ ہو تو اسے مزید فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ مخالف ملک اس کی ٹیکنالوجی کا مطالعہ یا اسے دوبارہ بنانے کی کوشش نہ کر سکے۔

تاہم کسی بھی طیارے کے مکمل طور پر تباہ ہونے کے باوجود اس کے ملبے سے کچھ نہ کچھ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ خاص طور پر جدید الیکٹرانک آلات اگر حادثے کے بعد کسی حد تک محفوظ رہ جائیں تو مخالف فریق ان کا جائزہ لے کر فوجی ٹیکنالوجی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

Read Comments