گروک کا نیا ماڈل 'امیجن امیج 2.0' متعارف، ایڈیٹنگ اور ٹیکسٹ رینڈرنگ اور بھی بہتر
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایلون مسک کی اے آئی کمپنی ایکس اے آئی نے اپنے امیج جنریشن ٹول ’گروک امیجن‘کا نیا ورژن ”امیجن امیج 2.0“ متعارف کرا دیا ہے، جس میں تصاویر بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں زیادہ درست طریقے سے ایڈٹ کرنے اور تصویر کے اندر واضح تحریر شامل کرنے کی صلاحیت بہتر بنائی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق نیا ماڈل حقیقی اور پیشہ ورانہ کام کے لیے تصاویر تیار کرنے پر توجہ دیتا ہے۔
ایکس اے آئی کے مطابق ”امیجن امیج 2.0“ اب گروک کے ویب ورژن پر کوالٹی موڈ کے طور پر دستیاب ہے، جبکہ اسے آئی او ایس اوراینڈرائیڈ ایپس میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی نے فی الحال اسے عام صارفین کے لیے دستیاب کر دیا ہے۔
گروک نے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”امیجن امیج 2.0“ اس کا اگلی نسل کا امیج ماڈل ہے، جس میں درست ترمیم، واضح ٹیکسٹ رینڈرنگ، بہتر معلوماتی درستگی اور حقیقی دنیا کے کاموں کے لیے زیادہ افادیت شامل ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کا مقصد صرف خوبصورت تصاویر بنانا نہیں بلکہ ایسے کاموں میں مدد دینا ہے جہاں تصویر میں درست تبدیلیاں اور واضح تفصیلات ضروری ہوں۔
نئے ماڈل کی خاص بات اس کے ایڈیٹنگ ٹولز ہیں۔ گروک کے مطابق میجک وانڈ کی مدد سے تصویر کے صرف ایک مخصوص حصے میں تبدیلی کی جا سکتی ہے جبکہ باقی تصویر کو جوں کا توں رکھا جا سکتا ہے۔
اسی طرح سیگمینٹیشن کے ذریعے تصویر کے کسی خاص حصے کو زیادہ درست انداز میں منتخب کیا جا سکتا ہے۔
اسمارٹ ری سائز کی سہولت سے صارفین اپنی ضرورت کے مطابق تصویر کا فریم اور سائز آسانی سے تبدیل کر سکتے ہیں۔
یہ خصوصیات خاص طور پر گرافک ڈیزائنرز، سوشل میڈیا کے لیے مواد بنانے والے افراد، مارکیٹنگ اور اشتہارات سے وابستہ لوگوں کے لیے اہم ہوسکتی ہیں، کیونکہ انہیں اکثر پوری تصویر دوبارہ بنانے کے بجائے صرف کسی مخصوص حصے میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔
امیجن امیج ”امیجن امیج 2.0“میں تصویر کے اندر تحریر بنانے کی صلاحیت کو بھی بہتر کیا گیا ہے۔ اے آئی سے بنائی جانے والی تصاویر میں اکثر الفاظ، لوگو، سائن بورڈز اور پیچیدہ ٹائپوگرافی غلط بننے کا مسئلہ دیکھا جاتا ہے۔ ایکس اے آئی کا کہنا ہے کہ نئے ماڈل میں ٹیکسٹ رینڈرنگ زیادہ واضح اور درست کی گئی ہے، جس سے ایسے ڈیزائن تیار کرنا آسان ہوگا جن میں تحریر بھی تصویر کا اہم حصہ ہو۔
کمپنی نے ماڈل کی ’فیکچوئلٹی‘ یعنی دنیا کی حقیقی چیزوں اور معلومات کو بہتر انداز میں سمجھنے کی صلاحیت میں بھی بہتری کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم یہ دعویٰ کمپنی کی اپنی جانب سے ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی سے تیار ہونے والی ہر تصویر لازماً حقیقت کی درست نمائندگی کرے گی۔
گروک کی جانب سے جاری کی گئی معلومات میں یہ بھی بتایا گیا کہ ”امیجن امیج 2.0“ کو امیج جنریشن اور امیج ایڈیٹنگ کے مختلف مقابلہ جاتی جائزوں میں اچھی پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔
گروک کے آفیشل اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ ماڈل ٹیکسٹ ٹو امیج اور امیج ایڈیٹنگ، دونوں شعبوں میں ایرینا کی درجہ بندی میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ تاہم اس درجہ بندی کو آزادانہ طور پر سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ایرینا کا مخصوص ورژن، ٹیسٹ کا وقت اور موازنے میں شامل ماڈلز کون سے تھے۔
نئے ماڈل کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کے ردعمل بھی سامنے آئے۔ بعض صارفین نے اس کی نئی صلاحیتوں کو بڑی بہتری قرار دیا اور خاص طور پر بہتر ٹائپوگرافی، پیچیدہ ڈیزائن اور مخصوص حصے کی ایڈیٹنگ کو سراہا۔
تاہم تمام صارفین کا ردعمل مثبت نہیں تھا۔ ان کے خیال میں اس کے لیے نتائج پہلے کے مقابلے میں خراب ہوگئے ہیں اور تصاویر زیادہ مصنوعی محسوس ہو رہی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی امیج ماڈلز کے نتائج ہر صارف اور ہر قسم کے پرامپٹ کے لیے ایک جیسے نہیں ہوتے۔
مجموعی طور پر ”امیجن امیج 2.0“ کی آمد سے اے آئی امیج جنریشن کے شعبے میں مقابلہ مزید بڑھ گیا ہے۔ نئے ماڈل کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ صرف ایک پرامپٹ سے تصویر بنانے کے بجائے تصویر کے مخصوص حصے میں تبدیلی، سائز تبدیل کرنے اور بہتر تحریر شامل کرنے جیسے عملی کاموں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔
ایکس اے آئی کا کہنا ہے کہ ”امیجن امیج 2.0“ کو حقیقی تخلیقی کام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ عام صارفین اور پروفیشنل ڈیزائنرز کے استعمال میں یہ دعوے کس حد تک درست ثابت ہوتے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کی کارکردگی دیگر بڑے اے آئی امیج ماڈلز کے مقابلے میں کہاں کھڑی ہوتی ہے۔