'مکہ دفاعی اتحاد ایران یا اسرائیل کے خلاف نہیں': ترکیہ کی وضاحت

یہ معاہدہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری دینے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہے: ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان
شائع 09 اگست 2026 09:54am

ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ نیا سہ فریقی دفاعی معاہدہ ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ معاہدے میں کسی بھی ملک کو مشترکہ خطرے کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا۔

ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے جمعے کے روز مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کو بتایا کہ معاہدے میں کسی مشترکہ خطرے کا ذکر تحریری طور پر نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک معاہدے میں شامل تینوں ملکوں پر حملہ نہیں کرتے، انہیں اس معاہدے کا ہدف نہیں سمجھا جائے گا۔

ہاکان فیدان نے معاہدے کو تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے ملتا جلتا قرار دیا۔ نیٹو کے آرٹیکل 5 کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

ترکیہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری دینے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہے۔ ہاکان فیدان نے انادولو سے گفتگو میں کہا کہ خطے میں باہر سے آنے والی طاقتیں مسائل حل نہیں کرتیں بلکہ انہیں مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔

فیدان کے مطابق ترکی، سعودی عرب اور پاکستان اس نئے دفاعی تعاون کے بنیادی ممالک ہیں، تاہم انقرہ اس دائرے کو مزید وسیع کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے صدر کے وژن کے تحت ہمیں صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں اس تعاون کو بڑھانا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر تمام ممالک کو اس چھتری کے نیچے لانا چاہیے۔

ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ کئی ممالک نے پہلے ہی اس تعاون میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق مصر اس منصوبے میں شامل ہونے والا ایک اہم ملک ہوسکتا ہے اور بعض تکنیکی معاملات طے ہونے کے بعد اس کی شمولیت متوقع ہے۔

فی الحال معاہدے کے کئی عملی پہلو طے ہونا باقی ہیں، خاص طور پر یہ کہ کسی ہنگامی صورتحال میں تینوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح رابطہ اور تعاون کریں گی۔ تاہم مشترکہ کمیٹیوں، مستقل سیکریٹریٹ، فوجی تعاون اور دفاعی صنعت میں شراکت کے منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ محض ایک علامتی مشترکہ دفاعی اعلان تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک باقاعدہ علاقائی دفاعی تعاون میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تاہم ترک وزیر خارجہ کے مطابق نئے معاہدے کے تحت کسی ملک کو مدد دینے کا فیصلہ حالات کے مطابق کیا جائے گا۔ جس ملک پر حملہ ہوگا، اسے پہلے مدد کی درخواست کرنا ہوگی اور یہ بھی بتانا ہوگا کہ اسے کس قسم کی مدد درکار ہے۔ یہ مدد انٹیلی جنس معلومات، رسد اور گولہ بارود سے لے کر فوجی دستوں کی تعیناتی تک ہوسکتی ہے۔

معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان سیاسی اور فوجی سطح پر رابطے کے لیے مختلف کمیٹیاں بھی قائم کی جائیں گی۔ ان میں تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور فوجی سربراہان شامل ہوں گے، جبکہ سعودی عرب میں ایک مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔

تینوں ممالک مشترکہ فوجی تربیت، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، فوجی رسد، خطرات کے جائزے اور اپنی افواج کے درمیان بہتر تعاون پر بھی کام کریں گے۔ دفاعی صنعت میں تعاون بھی معاہدے کا اہم حصہ ہوگا اور تینوں ملک ایک دوسرے کی فوجی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے امکانات تلاش کریں گے۔

ترک وزیرِ خارجہ کے مطابق اس معاہدے کی تیاری تقریباً دو سال اور آٹھ ماہ سے جاری تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے باعث فوری طور پر تیار نہیں کیا گیا۔

تاہم ایران میں بعض حکام نے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن محمود نبیویان نے کہا کہ سعودی قیادت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ تعاون اس کی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

اسی کمیٹی کے ایک اور رکن ابراہیم رضائی نے معاہدے کو ’’کاغذی معاہدہ‘‘ قرار دینے کی کوشش کی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں براہِ راست اس معاہدے کا ذکر نہیں کیا، تاہم انہوں نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے خود پر انحصار کریں اور جسے انہوں نے ’’حقیقی بھائی چارہ‘‘ قرار دیا، اسے فروغ دیں۔ انہوں نے ساتھ ہی ایرانی مسلح افواج کی طاقت اور تیاری پر بھی زور دیا۔

Read Comments