میر رضا کیس: 302 کے بعد شواہد مٹانے کی دفعہ بھی شامل
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی ہلاکت کے مقدمے میں شواہد چھپانے یا ضائع کرنے سے متعلق نئی دفعہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق، اغوا کی دفعہ 365 اور قتل کی دفعہ 302 کے بعد اب ایف آئی آر میں دفعہ 201 بھی شامل کر لی گئی ہے۔
یہ پیش رفت دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے منظر عام پر آنے اور تحقیقات نئی تفتیشی ٹیم کے سپرد کیے جانے کے بعد ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پرانی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے نئی ٹیم کو مکمل بریفنگ دے دی ہے اور تمام موجودہ شواہد اور فرانزک معلومات نئی ٹیم کو منتقل کر دی گئی ہیں۔
ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں قائم یہ نئی ٹیم اب کیس کے تمام پہلوؤں کا ازسرنو جائزہ لے گی۔
یاد رہے کہ میر رضا کیس کی تفتیش نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب مقتول کے جسمانی شواہد اور کیمیائی تجزیے سے حساس معلومات حاصل ہوئیں۔
تفتیشی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ میر رضا کے معدے اور پھیپھڑوں سے اہم ترین شواہد ملے ہیں۔ حکام کو مقتول کے پھیپھڑوں پر غیر معمولی اثرات کے واضح شواہد ملے ہیں، جبکہ ان کی شرٹ سے کسی دوسرے شخص کے پسینے کے نشانات بھی حاصل ہوئے ہیں، جن کی ڈی این اے اور کیمیائی تجزیے کے لیے فارنزک رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ مقتول کے ہاتھوں اور پیروں سے بھی انتہائی اہم شواہد جمع کیے گئے ہیں جو واقعے کی اصل نوعیت کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
ان شواہد کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پولیس نے جائے وقوعہ کے قریب واقع مشکوک گیسٹ ہاؤس کو سیل کر دیا ہے جہاں سے میر رضا کی لاش ملی تھی، اور وہاں کے چھ ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس کیس میں اب تک دوستوں اور کاروباری شراکت داروں سمیت مجموعی طور پر اکیس افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے اور ان کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔
دوسری جانب، مقتول میر رضا کے والد میر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر داخلہ سندھ اور میئر کراچی نے ان سے ملاقات میں ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے۔ میر حسین کا کہنا تھا کہ ہم جوڈیشل کمیشن کے معاملے پر اچھی طرح سوچ بچار کرنے کے بعد ہی اپنا حتمی جواب دیں گے۔
تاہم، انہوں نے پولیس کی تشکیل کردہ نئی تحقیقاتی کمیٹی پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ مقتول کے والد نے کمیٹی کے سربراہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی ایک اچھی شہرت کے حامل افسر ہیں اور مجھے پوری امید ہے کہ ان کی سربراہی میں قائم نئی تحقیقاتی کمیٹی تمام حقائق کو درست انداز میں سامنے لائے گی۔
میر حسین نے تفتیش کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا کہ ان کے بیٹے کا بزنس پارٹنر بھی اس واقعے کے بعد سے پراسرار طور پر غائب ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ پولیس ٹیم نے ان سے صرف ایک بار تفتیش کی تھی، جبکہ گیسٹ ہاؤس کے ملازمین سے کیا تحقیقات کی گئی ہیں، اس بارے میں بھی انہیں کچھ نہیں بتایا جا رہا۔
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ واقعے سے متعلق گیسٹ ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج تاحال سامنے نہیں لائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ میر رضا اٹھائیس جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی لاش انتیس جولائی کو گلستانِ جوہر کے ایک گیسٹ ہاؤس سے ملی تھی۔ پولیس نے شروع میں اسے خودکشی قرار دینے کی کوشش کی تھی، لیکن اہلِ خانہ کے تحفظات پر عدالت کے حکم سے قبر کشائی کی گئی۔
آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تصدیق ہوئی کہ میر رضا کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات تھے، ان کی پسلیاں، دانت اور کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور گولی پیچھے کی جانب سے لگی تھی۔ اس رپورٹ کے بعد پولیس نے مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 شامل کی۔
تفتیشی ٹیم میر رضا کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہے، جس کے مطابق انہوں نے موت سے قبل علی اور اپنے دوست عبداللہ سے فون پر بات کی تھی اور ان کے فون پر آخری آٹھ پیغامات بھی موصول ہوئے تھے جن کا جواب نہیں دیا گیا تھا۔
