ایرانی وزیر خارجہ اور اسپیکر مناسب وقت پر اسلام آباد کا دورہ کریں گے: تہران
پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تہران نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کو عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف کے دورۂ پاکستان کے لیے دعوت نامہ موصول ہو گیا ہے اور دونوں شخصیات مناسب وقت پر اسلام آباد کا دورہ کریں گی۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی دورے اور مختلف سطحوں پر روابط دونوں ہمسایہ ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا فطری حصہ ہیں۔ تاہم انہوں نے دورے کی حتمی تاریخ کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں بتائی۔
پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی سطح پر اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایران کے مطابق اسلام آباد نے اپریل میں جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرنے کے علاوہ جون میں ایک فریم ورک معاہدے کی تشکیل میں بھی مدد کی تھی۔
تاہم یہ معاہدہ گزشتہ ماہ برقرار نہ رہ سکا اور امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً دو ہفتوں تک ایک دوسرے کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بمباری روکنے کا اعلان کیا، جب کہ تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی کوششیں بھی سامنے آئیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس مؤقف کے حوالے سے بھی بات کی گئی کہ جب تک امریکا کی جانب سے عہد شکنی جاری ہے، مذاکرات کا دوبارہ آغاز ممکن نہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اس وقت آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے راستے کے تعین کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا، تاہم پیغامات کا تبادلہ ایک فطری امر ہے اور روزمرہ معاملات کے حوالے سے ثالثوں کے ذریعے یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے اسماعیل بقائی نے کہا کہ جب تک بحری ناکا بندی اور مفاہمتی معاہدے کی دیگر شقوں کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز کو ایک محفوظ آبی راستے میں تبدیل ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات میں ماحولیاتی امور اور بحری خدمات کی فراہمی کے طریقۂ کار پر بھی بات ہوئی ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ جب بحری خدمات فراہم کی جاتی ہیں تو اس کے عوض معاوضہ وصول کرنا فطری امر ہے۔
دوسری جانب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے، جسے ’معاہدۂ مکہ‘ کہا جا رہا ہے، پر بھی ایرانی وزارت خارجہ نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کو اس بات پر فکر مند ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے۔ انہوں نے معاہدے کو خطے کے ممالک کے ادراک میں تبدیلی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ممالک اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ امریکا کی جانب سے سیکیورٹی فراہم کرنے کے دعوے پر انحصار نہیں کر سکتے۔
تہران کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے خطے میں مشترکہ دفاع اور سلامتی کے لیے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جب کہ ایران ایک جانب عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملات پر بات چیت کر رہا ہے اور دوسری جانب امریکا کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات کے حوالے سے اپنے تحفظات برقرار رکھے ہوئے ہے۔