میر رضا کیس: گیسٹ ہاؤس میرے یا میرے والد کی ملکیت نہیں، راول شرجیل میمن

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے بیٹے نے سوشل میڈیا مہم کو بے بنیاد قرار دے دیا۔
اپ ڈیٹ 10 اگست 2026 07:22pm

میر رضا کیس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری مختلف دعوؤں کے معاملے پر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے بیٹے راول شرجیل میمن کا تازہ بیان سامنے آگیا۔ راول شرجیل میمن نے اپنے پاکستان سے فرار ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ گیسٹ ہاؤس نہ ان کے والد کی ملکیت ہے اور نہ ہی ان کی۔

راول شرجیل میمن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ْایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے پاکستان سے فرار ہونے کے دعوے غلط ہیں، وہ پاکستان میں ہی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ گلستانِ جوہر میں واقع متعلقہ گیسٹ ہاؤس ان کے والد شرجیل انعام میمن یا ان کی ملکیت ہے۔

راول شرجیل میمن نے دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا پر جاری مہم بظاہر دو سیاسی صفحات سے شروع ہوئی، جن میں ’کراچی اسٹوریز‘ شامل ہے، جسے انہوں نے سیاسی جماعتوں سے وابستہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ بغیر کسی ثبوت کے کسی فرد کا نام اتنے سنگین معاملے میں شامل کرے۔

راول شرجیل میمن نے مطالبہ کیا کہ جس کسی نے یہ مہم شروع کی اسے گرفتار کرکے جواب دہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوگوار خاندان کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میر رضا علی کی ہلاکت کا معاملہ سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع ابلاغ میں زیرِ بحث ہے اور کیس سے متعلق مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

اس سے قبل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اپنے اور اپنے بیٹے راول شرجیل میمن کے نام میر رضا کیس سے جوڑنے والی سوشل میڈیا مہم کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رجوع کر چکے ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے 9 اگست کو جمع کرائی گئی درخواست میں سوشل میڈیا پر اپنے خلاف الزامات کو جھوٹا، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے معاملے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب میر رضا کے اہلِ خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر موجودہ تفتیشی عمل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

میر رضا کے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں جسم پر مختلف زخموں، ہڈیوں کے فریکچر اور کمر پر گولی لگنے سے پھیپھڑوں میں خون جمع ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مزید فرانزک اور ڈی این اے رپورٹس کے نتائج کا انتظار ہے۔

واضح رہے کہ میر رضا علی کراچی کے علاقے فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے، جس کے بعد 29 جولائی کو ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔ کیس کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی کی سربراہی میں نئی پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل گئی۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن عامر فاروقی کی سربراہی میں قائم نئی تحقیقاتی ٹیم کا پہلا اجلاس پیر کو ہوا جس میں سابقہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کے علاوہ میر رضا کے وکیل اور والد بھی پیش ہوئے۔

میر رضا کے والد میر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پیش رفت سے کچھ اطمینان ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حقائق پہلے سامنے آ جاتے تو شاید قبر کشائی کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ تاہم وکیل نے کیس میں ڈی این اے اور دیگر فرانزک نمونوں کے لیبارٹری تک نہ پہنچنے کی اطلاعات کو بھی تشویش ناک قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ فرانزک نمونوں کی ترسیل میں تاخیر پر متعلقہ تفتیشی افسران کو جواب دینا ہوگا۔ اگر فرانزک شواہد کے تحفظ میں غفلت ثابت ہوئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

Read Comments