میر رضا کی قبر کشائی سے حاصل نمونے تاحال فرانزک لیب نہ پہنچنے کا انکشاف

تمام سیمپلز تفتیشی افسر کے حوالے کر دیے، سیمپلز فرانزک لیب پہنچانا تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے: پولیس سرجن
اپ ڈیٹ 10 اگست 2026 07:41pm

کراچی کے ہائی پروفائل میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں پولیس کی مجرمانہ غفلت کھل کر سامنے آگئی ہے، قبر کشائی سے حاصل کیے گئے 17 فرانزک نمونے 48 روز گزرنے کے باوجود جامعہ کراچی کی فرانزک لیب میں منتقل نہ ہو سکے۔

ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز میر رضا علی کی قبر کشائی کے دوران 17 فرانزک نمونے حاصل کیے گئے تھے جب کہ میر رضا علی کے والدین کے بھی 2 ڈی این اے سیمپلز لیے گئے تھے تاہم 2 روز گزرنے کے باوجود یہ سیمپلز تاحال ٹیسٹنگ کے لیے جامعہ کراچی کی فرانزک لیب نہیں پہچائے جاسکے۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق تمام سیمپلز تفتیشی افسر کے حوالے کر دیے گئے تھے اور سیمپلز کو فرانزک لیب تک پہنچانا کیس کے تفتیشی افسر کی ہی ذمہ داری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم سے متعلق تمام کام مکمل کر دیا گیا ہے، اب مزید کارروائی جامعہ کراچی کی فرانزک لیب کی جانب سے کی جائے گی۔

میر رضا قتل کیس کے موجودہ تفتیشی افسر غضنفر علی نے بتایا کہ انہیں گزشتہ روز ہی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے اور وہ سابقہ تحقیقاتی کمیٹی کا حصہ نہیں تھے، اس لیے وہ سیمپلز سے متعلق فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے، البتہ نئی تحقیقاتی ٹیم آج سے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کرے گی، جس کے بعد ہی مزید تفصیلات بتائی جا سکیں گی۔

اہم فرانزک شواہد کی منتقلی میں تاخیر پر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور خدشہ ہے کہ فرانزک رپورٹ میں تاخیر سے اس اہم کیس کی تحقیقات متاثر ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب جامعہ کراچی کی فرانزک لیب حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک نمونے ان کے پاس نہیں پہنچے۔ لیب حکام کے مطابق وہ ہفتے کے روز سے سیمپلز اور ڈی این اے نمونوں کا انتظار کر رہے ہیں، نمونے موصول ہوتے ہی فرانزک ٹیسٹنگ کا فوری آغاز کر دیا جائے گا۔

فرانزک نمونوں میں تاخیر پر جواب دینا ہوگا: وکیل

دوسری جانب میر رضا قتل کیس کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈی این اے اور دیگر فرانزک نمونوں کے لیب نہ پہنچنے کی اطلاعات تشویشناک ہیں، فرانزک نمونوں میں تاخیر پر متعلقہ تفتیشی افسران کو جواب دینا ہوگا، اگر فرانزک نمونوں کے تحفظ میں غفلت ثابت ہوئی تو سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، کیس میں کسی بھی قسم کی غفلت یا بدنیتی برداشت نہیں کی جائے گی۔

جبران ناصر نے کہا کہ انہوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موجود غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے خط لکھا تھا جب کہ پولیس سرجن نے بھی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آج پہلی بار اہل خانہ کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا مکمل مؤقف بیان کرنے کا موقع ملا جب کہ نئی تحقیقاتی ٹیم نے والدین کی جانب سے فراہم کی گئی تمام معلومات اور خدشات تفصیل سے نوٹ کیے ہیں۔

وکیل نے میر رضا کیس میں نئی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تسلیم کرلیا کہ میر رضا کا معاملہ خودکشی نہیں بلکہ قتل کا کیس ہے، خود کشی کے مؤقف پر اصرار سے سابق تفتیشی ٹیم کی ساکھ متاثر ہوئی، ہم نے اچھی شہرت رکھنے والے افسران پر مشتمل نئی ٹیم کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال جوڈیشل کمیشن یا جوڈیشل انکوائری کی ضرورت نہیں کیوں کہ حکومت نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے اور جب کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر بھی اپنے مؤقف سے آگاہ کردیا ہے۔ جبران ناصر نے کہا کہ عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے تاہم تفتیش پولیس کا آئینی اور قانونی کام ہے۔

جبران ناصر نے کہا کہ پولیس کو تمام مشتبہ افراد اور اہم نکات سے آگاہ کردیا گیا ہے اور آئندہ تین سے چار روز میں تحقیقات کی سمت واضح ہوجائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر نئی تحقیقاتی ٹیم ناکام ہوئی تو عدالت سے رجوع کریں گے، کمیشن کی رپورٹ کی قانونی حیثیت تفتیشی شواہد جیسی نہیں ہوتی۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ وہ فی الحال نئی تحقیقاتی ٹیم کی کارروائی اور تحقیقات کی سمت کا انتظار کر رہے ہیں جب کہ میڈیا کے سامنے آئندہ تمام تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ میر رضا علی 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی لاش 29 جولائی کو گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔ پولیس نے شروع میں اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی لیکن مقتول کے والد میر حسین اور ان کے وکیل جبران ناصر نے موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا۔

عدالت کے حکم پر قبر کشائی کے بعد جب 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی، تو اس میں تصدیق ہوئی کہ میر رضا کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات تھے، ان کی پسلیاں، دانت اور کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور گولی پیچھے کی جانب سے لگی تھی۔ اس رپورٹ کے بعد پولیس نے مقدمے میں اغوا کی دفعہ کے ساتھ قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کر لی ہے۔

تفتیشی ٹیم اب میر رضا کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہے، جس کے مطابق انہوں نے موت سے قبل علی اور اپنے دوست عبداللہ سے فون پر بات کی تھی اور ان کے فون پر آخری آٹھ پیغامات بھی موصول ہوئے تھے جن کا جواب نہیں دیا گیا تھا۔

Read Comments