امریکا میں مسلم امیدوار کی تاریخی جیت پر مخالفین نے ’انشاءاللہ‘ کو ہتھیار کیسے بنایا؟

عبداللہ السید کی جیت کو امریکا کے لیے ایک مذہبی اور نظریاتی خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
شائع 11 اگست 2026 10:13am

امریکی ریاست مشی گن میں سینیٹ کی پرائمری نشست پر مصری نژاد امریکی ڈاکٹر عبداللہ السید کی تاریخی کامیابی کے بعد ان کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک منظم اور شدید مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر عبداللہ السید کی جیت کو امریکا کے لیے ایک مذہبی اور نظریاتی خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جسے اسرائیل نواز لابی گروپس کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔

اس منفی مہم کا آغاز اس وقت ہوا جب دائیں بازو کے اکاؤنٹس نے عبداللہ السید کی انتخابی کامیابی کی رات کی تقریر سے لفظ ’انشاءاللہ‘ کا ٹکڑا الگ کر کے وائرل کر دیا۔

عبد اللہ السید نے یہ لفظ اس تناظر میں استعمال کیا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ان کی جیت یہ ثابت کرے گی کہ امریکا میں صرف پیسہ ہی انتخابات کا فیصلہ نہیں کرتا۔

مسلمانوں میں اُمید کے اس عام لفظ کو اصل سیاق و سباق سے ہٹا کر ملک پر ایک مخصوص مذہبی قبضے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا۔

دائیں بازو کے معروف انفلوئنسر بینی جانسن نے اس مہم کی قیادت کرتے ہوئے ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا جس کے کیپشن میں لکھا گیا کہ مشی گن میں سینیٹ کے مسلم سوشلسٹ امیدوار عبداللہ السید اپنی انتخابی تقریر میں انشاءاللہ کہہ رہے ہیں۔

اس پوسٹ کو لاکھوں بار دیکھا گیا جبکہ دائیں بازو کی ایک اور شخصیت لورا لومر نے اس ویڈیو کو گھناؤنا قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر یہ بے بنیاد پروپیگنڈا بھی کیا گیا کہ امریکا میں اب شرعی قانون آ رہا ہے اور مشی گن کے شہر ہیمٹرامک کو ایک مقبوضہ شہر کے طور پر پیش کیا گیا جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ مہم قدرتی طور پر نہیں پھیلی بلکہ چند مخصوص لوگوں نے اس کا آغاز کیا اور باقی اکاؤنٹس نے اسے آگے بڑھایا۔

اس مہم کو اس وقت مزید ہوا ملی جب کچھ امریکی سیاسی شخصیات اور اسرائیل نواز تنظیمیں بھی اس بحث میں کود پڑیں۔

ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ معلوم کریں کہ السید کے پیچھے کون ہے، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم کے سابق ڈیجیٹل مشیر حنانیا نفتالی نے امریکیوں سے اپیل کی کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، وہ اپنی روایات کا دفاع کریں۔

اس پروپیگنڈے کو اس وقت سب سے بڑا سیاسی سہارا ملا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے براہِ راست عبداللہ السید کو نشانہ بنایا۔

ٹرمپ نے انہیں اسرائیل اور یہودیوں سے نفرت کرنے والا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے ساتھ ”گندگی، جرم اور تباہی لائیں گے“۔

ٹرمپ کے اس بیان کا مقصد نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں السید کے ریپبلکن حریف مائیک راجرز کے حق میں ووٹرز کو اکٹھا کرنا تھا۔

دوسری جانب، عبداللہ السید نے اپنے خلاف ہونے والے تمام الزامات کا مضبوطی سے جواب دیا ہے۔

انہوں نے یہودی امریکیوں کے تحفظ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ یہودی امریکیوں کی حفاظت کے لیے میری فکر بالکل ویسی ہی ہے جیسی میری اپنی بیٹیوں کے لیے ہے۔

عبد اللہ السید نے ذاتی حملوں کا جواب دینے کے بجائے اپنی پالیسیوں اور برابری پر توجہ مرکوز رکھی اور کہا کہ تمام امریکیوں کو ان کی نسل، رنگ یا عبادت کے طریقے سے قطع نظر معیاری تعلیم، صحت اور اچھے روزگار کا حق حاصل ہے۔

انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر برنی سینڈرز اور الزبتھ وارن سمیت کئی بڑے رہنماؤں کی بھرپور حمایت حاصل ہے جنہوں نے کارپوریٹ اثر و رسوخ کے خلاف لڑنے پر ان کی تعریف کی ہے۔

تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ السید آنے والے مہینوں میں ٹرمپ کی تحریک کے نشانے پر رہیں گے اور انہیں مزید ایسے ہی پروپیگنڈوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Read Comments