سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا کرنے پر میٹا سمیت دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں پر ہزاروں مقدمات درج

سوشل میڈیا کی مبینہ لت سے متعلق امریکا کی وفاقی عدالت میں 3 ہزار سے زائد جبکہ کیلیفورنیا کی ریاستی عدالت میں تقریباً 3 ہزار 300 مقدمات ہیں۔
شائع 11 اگست 2026 12:54pm

امریکا کی ایک اپیل عدالت نے میٹا، گوگل، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ کے خلاف سوشل میڈیا کی مبینہ لت سے متعلق ہزاروں مقدمات کو آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان مقدمات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ٹیک کمپنیوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا کہ خاص طور پر بچے اور نوجوان ان کے زیادہ عادی ہوں۔ مقدمات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے اس استعمال سے نوجوانوں کی ذہنی صحت متاثر ہوئی اور ان میں ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی شکل و صورت سے متعلق مسائل میں اضافہ ہوا۔

سان فرانسسکو میں قائم نویں امریکی سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے پیر کے روز میٹا اور ٹک ٹاک کی جانب سے دائر اپیل مسترد کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ کمپنیوں نے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اس مرحلے پر اپیل کی، جب مقدمات ابھی مکمل نہیں ہوئے تھے۔

اس فیصلے کے بعد وفاقی عدالت میں دائر 3 ہزار سے زائد مقدمات کی کارروائی جاری رہ سکے گی۔ یہ مقدمات امریکی ریاستوں، مقامی حکومتوں، اسکول اضلاع، والدین اور دیگر افراد نے دائر کیے ہیں۔

کمپنیوں نے اپنے دفاع میں امریکی قانون کی شق 230 کا حوالہ دیا تھا۔ یہ قانون عام طور پر آن لائن پلیٹ فارمز کو ان کے صارفین کی جانب سے پوسٹ کیے جانے والے مواد سے متعلق بعض قانونی ذمہ داریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

میٹا اور ٹک ٹاک کا مؤقف تھا کہ اس قانونی تحفظ کے تحت ان پر ایسے مقدمات بھی نہیں چلنے چاہئیں جن میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے پلیٹ فارمز کی مبینہ طور پر عادی بنانے والی خصوصیات کے بارے میں صارفین کو مناسب معلومات فراہم نہیں کیں۔

تاہم اپیل عدالت نے کمپنیوں کی اس دلیل کو اس مرحلے پر قبول نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ شق 230 کمپنیوں کو مقدمات سے مکمل استثنیٰ نہیں دیتی بلکہ قانونی ذمہ داری سے دفاع کا ذریعہ فراہم کرتی ہے۔ عدالت کے مطابق چونکہ مقدمات ابھی حتمی مرحلے تک نہیں پہنچے، اس لیے کمپنیوں کی اپیل قبل از وقت تھی۔

عدالت نے میٹا کی ایک اور درخواست بھی مسترد کردی جس میں کمپنی نے ایک الگ مقدمے کی سماعت مؤخر کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس مقدمے میں 29 امریکی ریاستوں کے اٹارنی جنرل نے میٹا پر الزام لگایا ہے کہ کمپنی نے بچوں کا ڈیٹا غیر قانونی طور پر جمع اور استعمال کیا، نوجوانوں کو پلیٹ فارم پر زیادہ دیر تک رکھنے کے لیے اس کی خصوصیات تیار کیں اور سوشل میڈیا کی حفاظت کے بارے میں صارفین کو گمراہ کیا۔

اس مقدمے کی سماعت بدھ سے شروع ہونے والی ہے اور عدالت کے تازہ فیصلے کے بعد یہ کارروائی آگے بڑھ سکے گی۔

میٹا کو نوجوانوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق ایک اور بڑے قانونی معاملے میں بھی حالیہ دنوں میں دھچکا لگا ہے۔ نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے گزشتہ ہفتے قرار دیا تھا کہ میٹا نے ریاست میں عوامی نقصان پیدا کیا۔ عدالت نے کمپنی کو 567 ملین ڈالر ادا کرنے اور نوجوانوں کی حفاظت کے لیے مختلف اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا۔ میٹا نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا کہا ہے۔

سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی صرف وفاقی عدالتوں تک محدود نہیں۔ اسی نوعیت کے سیکڑوں مزید مقدمات ریاستی عدالتوں میں بھی زیر سماعت ہیں۔ کیلیفورنیا کی ریاستی عدالت میں تقریباً 3 ہزار 300 مقدمات کو ایک مشترکہ کارروائی کے تحت اکٹھا کیا گیا ہے۔

رواں سال مارچ میں اس معاملے میں ایک اہم مقدمہ لاس اینجلس میں سامنے آیا، جہاں ایک جیوری نے میٹا اور گوگل کو ایسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ڈیزائن کرنے میں غفلت کا مرتکب قرار دیا جو نوجوانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جیوری نے ایک نوجوان خاتون کو 6 ملین ڈالر ہرجانہ دینے کا حکم دیا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ بچپن میں انسٹاگرام اور یوٹیوب کی عادی ہوگئی تھیں۔

تازہ عدالتی فیصلے کے بعد اصل قانونی بحث اب اس بات پر مرکوز ہوگی کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی ڈیزائننگ اور نوجوان صارفین پر ان کے ممکنہ اثرات کے لیے کس حد تک ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔

مقدمات دائر کرنے والے وکلا کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائی کے ذریعے یہ معلوم ہوسکے گا کہ کمپنیوں کو نوجوانوں پر اپنے پلیٹ فارمز کے ممکنہ اثرات کے بارے میں کب علم ہوا اور انہوں نے اس کے بعد کیا اقدامات کیے۔

دوسری جانب میٹا نے تازہ فیصلے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ ٹک ٹاک کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ کمپنیوں نے ماضی میں ان مقدمات میں عائد الزامات کو مسترد کیا ہے۔

Read Comments