ایران جنگ میں امریکا کو 13 ارب ڈالرز کا نقصان، کئی طیارے اور بیسز تباہ: وال اسٹریٹ جرنل کا انکشاف

ایرانی حملوں سے 20 امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان، ہتھیاروں کے ذخائر میں بھی بڑی کمی سامنا کرنا پڑا۔
شائع 11 اگست 2026 01:11pm

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے انکشاف کیا ہے کہ ایران جنگ میں امریکا کو 13 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ جبکہ 42 سے زائد امریکی فوجی طیارے تباہ یا شدید متاثر ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے 2 ہزار سے زائد فضائی، میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں 8 ممالک میں موجود کم از کم 20 ایسی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا جہاں امریکی فوج موجود ہے یا انہیں استعمال کرتی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے تجزیے میں امریکی فوج کی سمندر پار تنصیبات، اہم دفاعی ڈھانچے اور فوجیوں کے تحفظ سے متعلق کمزوریوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے امریکی دفاعی نظام کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق، کویت، بحرین، قطر اور دیگر ممالک میں تعینات ہزاروں امریکی فوجی بھی ان حالات میں دباؤ کا شکار ہیں۔

دوسری جانب امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے بھی امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں نمایاں کمی کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران اب تک 1500 سے زائد پیٹریاٹ میزائل اور ہزاروں طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز اور بیلسٹک میزائل استعمال کیے جاچکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے ذخائر دوبارہ مکمل کرنے میں کم از کم دو سال لگ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پہلے ہی یوکرین کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کے باعث دباؤ میں تھے، تاہم ایران کے ساتھ جاری تنازع نے اس صورتحال کو مزید سنگین کردیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہتھیاروں کی کمی کے باعث یورپ اور ایشیا میں ممکنہ نئے خطرات سے نمٹنے کی امریکی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔

تجزیے کے مطابق روس اور چین بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ تائیوان یا مشرقی یورپ جیسے حساس علاقوں میں پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے حالات عالمی سیکیورٹی کے موجودہ نظام پر طویل مدتی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

Read Comments