میر رضا قتل کیس اہم تفتیشی مرحلے میں داخل، مزید کارروائی کے لیے فرانزک رپورٹس کا انتظار
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی تحقیقات اب ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں، جہاں تفتیشی حکام اور مقتول کے خاندان کو سائنسی اور فرانزک نتائج کا انتظار ہے۔ مقتول میر رضا کے اہلِ خانہ کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ اس اندوہناک قتل کے واقعے کو اب بارہ سے تیرہ روز گزر چکے ہیں، لیکن ابتدائی فرانزک رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔
جبران ناصر نے شواہد کی تفصیل بتاتے ہوئے واضح کیا کہ مقتول کی شرٹ اور جسم کے مختلف اعضا کے نمونے حاصل کیے گئے تھے جنہیں جامعہ کراچی کی لیبارٹری میں جمع کرایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ نمونے پرانی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے جمع کرائے گئے تھے اور ان نمونوں کی رپورٹ اگلے ایک سے دو روز میں آنے کی پوری توقع ہے۔
وکیل جبران ناصر نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ جو نئی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اس نے بھی قبر کشائی کے بعد حاصل ہونے والے نمونے جامعہ کراچی کی لیب میں جمع کرا دیے ہیں، اور قبر کشائی کے ان نمونوں کی ڈی این اے رپورٹ آج ہی موصول ہونے کا امکان ہے۔ تاہم، دیگر فرانزک نمونوں کی تفصیلی رپورٹس آنے میں مزید آٹھ سے دس روز لگ سکتے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ان تمام فرانزک اور ڈی این اے رپورٹس کی روشنی میں میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں بہت بڑی اور اہم پیش رفت متوقع ہے۔
تفتیشی حکام ان سائنسی نتائج کے سامنے آنے کے بعد ہی مزید قانونی کارروائی کو آگے بڑھائیں گے۔
قبل ازیں، مقتول کے خاندان اور ان کے وکیل کی جانب سے اہم بیانات بھی سامنے آئے، جن میں انہوں نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کو سنسنی خیز بنا کر پیش نہ کرے۔
مقتول میر رضا کے اہلِ خانہ کے وکیل جبران ناصر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس کیس میں کسی بھی قسم کی آڈیو لیک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مقتول کے اہلِ خانہ خود تمام تفصیلات فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ مقتول میر رضا کے اہلِ خانہ سے جو کچھ بھی پوچھنا ہے وہ براہِ راست پوچھ لیں، لیکن سنسنی پھیلانے یا کسی انکشاف کا نام دے کر خبریں نہ چلوائی جائیں۔
وکیل جبران ناصر نے کیس کی اہم شواہد یعنی ڈی این اے نمونوں کی منتقلی میں ہونے والی تاخیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار جو سیمپلز لیے گئے تھے، ان کو بارہ سے تیرہ دن گزر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیر کی صبح ہی یہ سیمپلز لیبارٹری میں جمع ہو جانے چاہیے تھے مگر انہیں وقت پر جمع نہیں کرایا گیا، اور اب میڈیا کی نشاندہی پر ہی تاخیر کا یہ معاملہ سامنے آیا ہے جس کے بعد بالآخر یہ سیمپلز فرانزک لیب بھجوائے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب قبر کشائی کے بعد حاصل کیے گئے نمونوں کی رپورٹ کا انتظار ہے۔
تفتیش کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی تفتیشی ٹیم کے رکن کے ساتھ جائے وقوعہ کا دورہ کیا گیا ہے اور خاندان نے اپنی مدد آپ کے تحت نشاندہی کرتے ہوئے تمام اہم مقامات پولیس کو دکھا دیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کی تفتیش مکمل ہو گئی ہے اور اب پولیس کو چاہیے کہ وہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرے۔
دوسری جانب، مقتول میر رضا کے والد میر حسین نے بھی نئی تفتیشی ٹیم کے رویے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ نئی تفتیشی ٹیم ہماری تمام باتیں غور سے سن رہی ہے اور ہمیں اس نئی ٹیم پر پورا اعتماد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ابتدائی دنوں میں مؤثر طریقے سے تحقیقات کی جاتیں تو یہ کیس آج کسی مختلف اور بہتر مرحلے میں ہوتا، کیونکہ سابق تفتیشی ٹیم نے خاندان کے ساتھ تحقیقات کی کوئی بھی تفصیلات شیئر نہیں کی تھیں۔
میر حسین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ میر رضا کے ساتھ اصل میں کیا ہوا تھا، اور ان کا کچن واقعے کے مقام سے تقریباً آدھا کلومیٹر دور تھا۔
مقتول کے والد نے انصاف کے حصول کے لیے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ انصاف کے لیے جس حد تک بھی جانا پڑا ہم جائیں گے، اور ہم خود بھی حقیقت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ پورا واقعہ کیسے پیش آیا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ تین مشکوک افراد سے متعلق تمام معلومات پولیس کو پہلے ہی فراہم کر چکے ہیں۔
میر حسین کا کہنا تھا کہ اب پہلی بار ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تحقیقات درست سمت میں جا رہی ہیں اور ہمیں پوری امید ہے کہ یہ نئی تفتیشی ٹیم اس کیس کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائے گی۔
وکیل جبران ناصر نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ والدین ہر سوال اور ہر پہلو پر پولیس سے مکمل تعاون کر رہے ہیں اور خاندان اس کیس میں کوئی بھی معلومات نہیں چھپا رہا۔
