حوثی ملیشیا کا سعودی آئل ٹینکر پر حملہ، دو پاکستانیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب میں سعودی آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں عملے کے تین ارکان کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
تُرک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق حکومت سے وابستہ نشریاتی ادارے الجمہوریہ ٹی وی نے منگل کو بتایا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں دو پاکستانی شہری اور ایک انڈونیشین شہری شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملے میں سعودی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم واقعے کی مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
الجمہوریہ ٹی وی نے جاں بحق ہونے والے افراد کی قومیت کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دو پاکستانی اور ایک انڈونیشین شہری جان کی بازی ہارے ہیں۔ تاہم ان افراد کے نام یا ان کی ملازمت سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب حوثی گروپ کی طرف سے اس حملے کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان یا تبصرہ سامنے نہیں آیا، اس لیے حملے کی ذمہ داری اور اس سے متعلق دیگر تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
باب المندب عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ یہ بحیرہ احمر کا داخلی راستہ ہے اور جزیرہ نما عرب کے دوسری جانب واقع آبنائے ہرمز کے مقابل ایک اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہاز بحیرہ احمر کے ذریعے نہر سویز اور پھر یورپ کی جانب جانے والے اہم راستے سے منسلک ہوتے ہیں۔
اس علاقے میں ماضی میں بھی حوثیوں کی جانب سے تجارتی اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جس کے باعث بین الاقوامی جہاز رانی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق باب المندب میں کسی بھی نئے حملے سے نہ صرف بحری جہازوں کی سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ عالمی تجارت اور خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی بھی مزید متاثر ہوسکتی ہے۔