سستی ڈیلز کا جادو ختم: میک ڈونلڈز سمیت فاسٹ فوڈ کمپنیاں مشکلات کا شکار

مہنگائی کے باعث سستی کھانے کی تلاش میں رہنے والے صارفین کھانے کے معیار، مینیو میں نئے آپشنز اور بہتر سروس کو اہمیت دے رہے ہیں۔
اپ ڈیٹ 11 اگست 2026 09:17pm

امریکا میں میک ڈونلڈز سمیت بڑی فاسٹ فوڈ چینز کو قیمتوں میں رعایت دے کر صارفین کو راغب کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری سہ ماہی کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ مہنگائی کے باعث سستی کھانے کی تلاش میں رہنے والے صارفین اب صرف ڈسکاؤنٹ پر توجہ نہیں دیتے بلکہ کھانے کے معیار، مینیو میں نئے آپشنز اور بہتر سروس کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔

امریکی فاسٹ فوڈ چینز نے گزشتہ 2 سال کے دوران مہنگائی سے متاثرہ صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سستی ڈیلز اور مختلف پروموشنز پر زیادہ انحصار کیا تاہم دوسری سہ ماہی کے نتائج نے ظاہر کیا ہے کہ صرف رعایتی قیمتیں صارفین کو مستقل طور پر ریسٹورنٹس تک لانے کے لیے کافی نہیں رہیں۔

رپورٹ کے مطابق وہ فاسٹ فوڈ چینز بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہیں جنہوں نے سستی ڈیلز کے ساتھ مینو میں نئے کھانے، معیار میں بہتری اور صارفین کے لیے خریداری کا زیادہ آسان تجربہ بھی فراہم کیا۔

ٹیکو بیل کی بہتر کارکردگی

یَم برانڈز کی فاسٹ فوڈ چین ٹیکو بیل نے قیمتوں کے حوالے سے صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے ہر چیز پر بڑی رعایت دینے کے بجائے مخصوص اور واضح ڈیلز متعارف کرائیں۔

ٹیکو بیل کے 5، 7 اور 9 ڈالر کے میل باکس صارفین میں مقبول رہے جب کہ کمپنی نے مینیو میں نئے کھانے بھی شامل کیے، جس سے صارفین کو ابتدائی سستی ڈیل کے علاوہ مزید اشیا خریدنے کی ترغیب ملی۔

فوڈ سروس کنسلٹنسی فرم ’کنکشنز‘ کی اسٹریٹجک پلاننگ اینڈ انوویشن کی ڈائریکٹر ریچل روئسٹر کے مطابق ویلیو ڈیل اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب وہ صارف کے لیے بالکل واضح اور آسان ہو اور اسے ایسا محسوس نہ ہو کہ سستی ڈیل دکھا کر بعد میں زیادہ قیمت وصول کی جارہی ہے۔

ٹیکو بیل کی رواں سہ ماہی میں ایک ہی مقام پر قائم ریسٹورنٹس کی فروخت میں 7 فیصد اضافہ ہوا جب کہ میک ڈونلڈز کی عالمی سطح پر موازنہ کی بنیاد پر فروخت میں 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

میک ڈونلڈز کو مشکلات کا سامنا

میک ڈونلڈز نے صارفین کے لیے 3 ڈالر سے کم قیمت کا مینیو اور 4 ڈالر کا ناشتے کا میل متعارف کرایا تاہم اس کے باوجود کمپنی کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔

میک ڈونلڈز کے چیف ایگزیکٹو کرس کیمپچنسکی نے بتایا کہ کمپنی کی ٹریفک میں کمی کا تقریباً 2 تہائی حصہ ایسے صارفین سے متعلق تھا جو پہلے سے میک ڈونلڈز کے وفادار گاہک تھے۔ انہوں نے فروخت میں کمی کی وجہ حکمت عملی کے بجائے اس پر عمل درآمد میں مسائل کو قرار دیا۔

کم آمدنی والے صارفین پر دباؤ برقرار

دیگر فاسٹ فوڈ چینز کے نتائج سے بھی ظاہر ہوا کہ پروموشنز اور رعایتی ڈیلز کم آمدنی والے صارفین پر بڑھتے مالی دباؤ کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکیں۔

وینڈیز نے 5 ڈالر سے شروع ہونے والی ’بِگی بیگ‘ ویلیو ڈیلز پیش کیں تاہم امریکا میں ایک ہی ریسٹورنٹ پر موازنے کی بنیاد پر فروخت میں 7 فیصد کمی ہوئی جب کہ کمپنی نے اپنی سالانہ مالی پیش گوئی بھی واپس لے لی۔

ونگ اسٹاپ کو بھی پروموشنز کے باوجود مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کمپنی نے ایک ڈالر میں چکن ونگز سمیت مختلف رعایتی آفرز پیش کیں لیکن امریکا میں اس کے ایک ہی اسٹور کی موازنے کی بنیاد پر فروخت میں 7.5 فیصد کمی ہوئی۔

ونگ اسٹاپ کے چیف ایگزیکٹو مائیکل اسکیپ ورتھ کے مطابق شہری علاقوں میں کمپنی کی فروخت میں کمی آئی، جہاں عام طور پر گھرانوں کو زیادہ مالی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔ دوسری جانب زیادہ آمدنی والے علاقوں میں ریسٹورنٹس کے دوروں میں 9 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران ونگ اسٹاپ کے حصص کی قیمت میں 3 چوتھائی سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔

ڈی اے ڈیوڈسن کے تجزیہ کار میٹ کرٹس کے مطابق مختلف فاسٹ فوڈ چینز کی جانب سے مسلسل پروموشنز کے باعث صارفین کے لیے مختلف پیشکشوں میں فرق کرنا مشکل ہوا تاہم صارفین اب مختلف ڈیلز کا موازنہ کرنے اور اپنے لیے بہتر انتخاب کرنے میں پہلے سے زیادہ محتاط ہوگئے ہیں۔

صرف سب سے سستا ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں

دوسری سہ ماہی کے نتائج سے یہ بھی سامنے آیا کہ کسی ریسٹورنٹ کے لیے کامیاب ہونے کے لیے مارکیٹ میں سب سے سستا آپشن ہونا ضروری نہیں۔

ریسٹورنٹ برانڈز کی ملکیت برگر کنگ ان فاسٹ فوڈ چینز میں شامل رہا، جس نے بہتر کارکردگی دکھائی۔ کمپنی کے حکام نے امریکا میں مضبوط فروخت کا کریڈٹ ’2 فار 5 ڈالر‘ اور ’3 فار 7 ڈالر‘ جیسی پروموشنز کے ساتھ ساتھ آپریشنز اور مینیو کے معیار میں وسیع بہتری کو دیا۔

آزاد ریسٹورنٹ کنسلٹنٹ جان گورڈن کے مطابق برگر کنگ رعایتیں دے رہا ہے لیکن ہر وقت نہیں جب کہ اس کی پروموشنز میں نئے انداز اختیار کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق کمپنی ہر روز انتہائی گہری رعایت دینے کی پالیسی پر عمل نہیں کررہی۔

ڈومینوز اور چیپوٹلے بھی بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب

ڈومینوز پیزا نے بھی ویلیو فوکسڈ پیشکشوں اور صارفین کے لیے لائلٹی پروگرامز سے فائدہ اٹھایا، ان اقدامات سے صارفین کی آمد بڑھانے اور فروخت کو سہارا دینے میں مدد ملی۔

چیپوٹلے میکسیکن گرِل نے بھی مضبوط نتائج دیے جب کہ کمپنی نے قیمتوں میں اضافہ تقریباً 1 سے 2 فیصد تک محدود رکھا۔

چیپوٹلے کے چیف ایگزیکٹو اسکاٹ بوٹ رائٹ نے کہا کہ ویلیو کا مطلب صرف رعایت یا کم قیمت نہیں بلکہ اس میں سہولت، بہتر سروس اور مینو میں نئے کھانے بھی شامل ہیں۔

امریکی فاسٹ فوڈ مارکیٹ کی دوسری سہ ماہی کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے کمپنیاں اب صرف کم قیمتوں پر انحصار کرنے کے بجائے سستی ڈیلز کے ساتھ کھانے کے معیار، مینو میں جدت، سہولت اور بہتر آپریشنز پر بھی توجہ دے رہی ہیں۔

Read Comments