ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندر شیکھرن کا عہدے سے الگ ہونے کا اعلان
بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندر شیکھرن نے فروری میں عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ قیادت کے حوالے سے وضاحت ملازمین، سرمایہ کاروں اور دیگر شراکت داروں کے لیے ضروری ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق این چندر شیکھرن نے یہ فیصلہ ٹاٹا گروپ کو کنٹرول کرنے والے فلاحی ادارے ٹاٹا ٹرسٹس کے ساتھ کئی ماہ سے جاری اختلافات کے بعد کیا ہے۔ ٹاٹا ٹرسٹس کے پاس ٹاٹا سنز کے 66 فی صد حصص ہیں۔
دونوں فریقوں کے درمیان ٹاٹا سنز کو اسٹاک مارکیٹ میں فہرست کرنے، ایئر انڈیا کے مالی نقصانات اور ایک اقلیتی شیئر ہولڈر کے متوقع انخلا سمیت مختلف معاملات پر اختلافات سامنے آئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق فروری میں ٹاٹا سنز کے بورڈ نے این چندر شیکھرن کی دوبارہ تقرری سے متعلق فیصلہ مؤخر کر دیا تھا، جس کے بعد ٹاٹا ٹرسٹس کے چیئرمین نوئل ٹاٹا کی جانب سے ان کی تقرری کی مخالفت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
این چندر شیکھرن کا کہنا ہے کہ بورڈ کے اس اجلاس کو چھ ماہ گزر چکے ہیں لیکن اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق ٹاٹا سنز ایک بڑا ادارہ ہے اور کئی اہم منصوبے عمل درآمد کے مرحلے میں ہیں، اس لیے قیادت کے بارے میں وضاحت ضروری ہے۔
ایک ایسے ذرائع نے، جو این چندر شیکھرن کے فیصلے سے براہ راست واقف ہے، ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ٹاٹا ٹرسٹس کے ساتھ اختلافات ہی ان کے عہدہ چھوڑنے کی بنیادی وجہ ہیں۔ ٹاٹا ٹرسٹس نے ’رائٹرز‘ کی جانب سے مؤقف کے لیے کی گئی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
این چندر شیکھرن کے اعلان کے بعد ٹاٹا گروپ کی بعض بڑی کمپنیوں کے حصص میں بھی کمی دیکھی گئی۔ ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کے حصص تقریباً 4 فی صد، ٹاٹا موٹرز کے حصص 1.3 فی صد جب کہ ٹاٹا اسٹیل کے حصص ایک فی صد سے زیادہ گر گئے۔
مالیاتی شعبے کے ایک ماہر کے مطابق این چندر شیکھرن کی قیادت میں گروپ نے منافع میں نمایاں اضافہ کیا، تاہم ایئر انڈیا، ڈیجیٹل اور ای کامرس جیسے شعبوں میں بڑے مالی نقصانات بھی سامنے آئے ہیں۔
ٹاٹا گروپ اس سے قبل بھی قیادت کے حوالے سے اندرونی اختلافات کا سامنا کر چکا ہے۔ 2016 میں ٹاٹا سنز کے بورڈ نے اس وقت کے چیئرمین سائرس کو عہدے سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد گروپ کے سربراہ رتن ٹاٹا کے ساتھ طویل تنازع سامنے آیا تھا۔
ٹاٹا گروپ نے گزشتہ برس یورپی کمپنی ایویکو کے ٹرک اور بس کے کاروبار کو 4.36 ارب ڈالر میں خریدنے پر اتفاق کیا تھا، جب کہ گروپ بھارت میں اسٹار بکس کے سیکڑوں آؤٹ لیٹس بھی چلاتا ہے۔
گزشتہ مالی سال میں ٹاٹا گروپ کی کمپنیوں کی مجموعی آمدن 185 ارب ڈالر رہی، جب کہ گروپ کی 26 فہرست شدہ کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ مالیت 31 مارچ تک 277 ارب ڈالر تھی۔
این چندر شیکھرن نے 1987 میں ٹاٹا گروپ کی آئی ٹی کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز میں بطور انٹرن شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ 2009 میں اسی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بنے اور 2017 میں ٹاٹا سنز کے چیئرمین کا منصب سنبھالا۔
این چندر شیکھرن ٹاٹا خاندان سے تعلق نہیں رکھتے اور وہ ٹاٹا سنز کے پہلے غیر پارسی چیئرمین بھی ہیں۔