میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ عہدے سے برطرف
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو میڈیکو لیگل افسر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور وہ اب انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔
بدھ کے روز کراچی کے انتہائی اہم اور ہائی پروفائل میر رضا کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
اسپتال حکام نے بتایا کہ جناح اسپتال میں میڈیکو لیگل آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر اسامہ کو پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین غلطیوں اور غفلت برتنے پر عہدے سے برطرف کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ڈاکٹر اسامہ اب انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے، جہاں کمیٹی ان سے میر رضا کے پوسٹ مارٹم میں سامنے آنے والی مبینہ غلطیوں سے متعلق سوالات کرے گی۔
انکوائری کمیٹی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کا بھی جائزہ لے گی جب کہ تحقیقات کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یاد رہے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے میر رضا کیس میں کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوتاہیاں سب سے ہوئی ہیں محکمہ صحت کے میڈیکو لیگل افسر سے بھی کوتاہی ہوئی۔
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ میر رضا کیس میں تفتیش کے دوران سامنے آنے والی تمام کوتاہیوں کا تدارک کیا جا رہا ہے جب کہ میڈیکل بورڈ کی تفصیلی رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں تاہم پہلے جو میڈیکو لیگل رپورٹ سامنے آئی تھی، پولیس اسی کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھا رہی تھی۔
خیال رہے کہ گلستان جوہر سے مردہ حالت میں ملنے والے میر رضا کی 8 اگست کو کی گئی قبر کشائی کے بعد کیے گئے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں میر رضا کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔
ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کے جسم کے پیچھے کی طرف گولی لگنے کا نشان چھوٹا اور سامنے کی طرف بڑا ہے، ماہرین کے مطابق اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گولی پیچھے کی طرف سے لگی۔
میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹ چکی تھیں، سر اور چہرے پر زخموں کے کئی نشانات موجود تھے، دائیں ران پر تقریباً 12سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم پایا گیا، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ملے۔
8 اگست کو میر رضا کی قبر کشائی کے بعد حاصل کیے گئے نمونوں کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بالکل مختلف پائی گئی، میر رضا کے جبڑے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق قبر کشائی کے دوران مجموعی طور پر 17سیمپل حاصل کیے گئے، میر رضا علی کے والدین کے بھی سیمپل حاصل کیے گئے جن سے ڈی این اے میچ کیا جائے گا، سیمپلز کو جامعہ کراچی کی فارنزک لیب میں جمع کروایا جائے گا، جسم سے مختلف نمونے حاصل کرنے کے بعد میر رضا کو اسی روز یعنی 8 اگست کو دوبارہ سپردِ خاک کردیا گیا۔
کیس کا پس منظر
خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر کے گیسٹ ہاؤس کے باہر سے ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔