آبنائے ہرمز کی بندش: پاناما کینال سے بحری جہاز گزارنے پر 10 لاکھ ڈالر فیس کی وصولی

ہر سال تقریباً 270 ارب ڈالر مالیت کا سامان پاناما کینال سے گزرتا ہے، جبکہ امریکا کی تقریباً 40 فیصد تجارت بھی اسی کینال سے ہوتی ہے: رپورٹ
شائع 13 اگست 2026 11:56am

ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہونے کے بعد عالمی تجارت کے ایک اہم راستے پاناما کینال سے گزرنے والے بحری جہازوں کی فیس ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ رواں ماہ پاناما کینال سے گزرنے کے لیے نیلام ہونے والے سلاٹس کی اوسط قیمت تقریباً 11 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 16 گنا سے بھی زیادہ ہے۔

برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق پاناما کینال بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملانے والا ایک اہم آبی راستہ ہے۔ ہر سال تقریباً 270 ارب ڈالر مالیت کا سامان اس راستے سے گزرتا ہے، جبکہ امریکا کی تقریباً 40 فیصد تجارت بھی اس کینال سے ہوتی ہے۔ چین بھی اس راستے کا بڑا صارف ہے۔

آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں واقع آبنائے باب المندب میں جاری تنازعات نے عالمی بحری تجارت کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی، جبکہ بحیرہ احمر میں حوثی باغیوں کے حملوں کے باعث جہازوں کے لیے سفر مزید خطرناک ہوگیا ہے۔

ان حالات میں زیادہ بحری جہاز پاناما کینال کا رخ کر رہے ہیں، جس سے وہاں انتظار کا وقت اور گزرنے کی فیس دونوں بڑھ گئی ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق ایک کنٹینر جہاز نے قطار سے جلد گزرنے کے لیے 40 لاکھ ڈالر فیس ادا کی۔ کینال سے گزرنے کے لیے بعض جہازوں کو ایک ہفتے سے زائد انتظار بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

پاناما کینال اتھارٹی عام طور پر جہازوں سے گزرنے کے لیے مقررہ فیس وصول کرتی ہے، لیکن شدید رش کے باعث جہاز مالکان نیلامی کے ذریعے اضافی رقم ادا کرکے اپنی باری جلد حاصل کر رہے ہیں۔

اس صورتِ حال میں موسم بھی ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ بحرالکاہل میں ایل نینو کے باعث سمندر کی سطح کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جس سے رواں سال شدید خشک سالی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

پاناما کینال میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے تازہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے پانی کی سطح کم ہونے کے خدشے کے پیش نظر حکام نے جہازوں کے ڈرافٹ، یعنی پانی کے اندر جہاز کے نچلے حصے تک گہرائی، پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔

مارکیٹ ریسرچ ادارے آرگس میں امریکی خام تیل کی بحری نقل و حمل کی قیمتوں کے سربراہ راس گریفتھ نے کہا کہ پاناما کینال اتھارٹی نے پانی بچانے کے لیے اقدامات کیے ہیں کیوں کہ رواں برس کے آخر میں ایل نینو سے پیدا ہونے والی شدید خشک سالی کا خدشہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پانی بچانے کے اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں دوبارہ جنگ شروع ہونے کے بعد پاناما کینال سے گزرنے کی طلب بڑھ گئی ہے اور حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں کو لاحق خطرات بھی دوبارہ بڑھ گئے ہیں۔

پاناما کینال کو لے کر امریکا اور پاناما کے درمیان سیاسی تناؤ بھی موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار کینال پر امریکا کا کنٹرول دوبارہ قائم کرنے کی بات کر چکے ہیں اور فوجی طاقت کے استعمال کا بھی ذکر کر چکے ہیں۔

ٹرمپ نے کینال سے وصول کی جانے والی فیس کو لوٹ مار قرار دیتے ہوئے چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی اعتراض کیا تھا۔

Read Comments