ایران کی جنگی حکمتِ عملی تبدیل، دشمن ممالک کے اندر حملوں کی تیاری کا حکم
ایران اور امریکا کے درمیان جاری شدید فوجی تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں تہران نے اپنے فوجی نظریے (ڈاکٹرائن) کو تبدیل کرتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کو دشمن کی سرزمین پر جارحانہ آپریشنز کی صلاحیت حاصل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان جاری یہ جنگ طویل ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، اور ایران اس تنازع کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدتِ ملازمت کے خاتمے یعنی بیس جنوری 2029 تک طول دینے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔
یہ انکشاف ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر مشیر اور سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے قریبی ساتھی بریگیڈیئر جنرل رضا نقدی نے امریکی نشریاتی ادارے ’پی بی ایس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔
جنرل رضا نقدی نے جنگ کے طویل ہونے کو ایک فوجی حکمتِ عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ جتنی طویل ہوگی، ہمیں اتنا ہی زیادہ تجربہ حاصل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے حقیقی تجربہ حاصل کرنے کے لیے اس سے پہلے کبھی امریکا کے ساتھ کوئی حقیقی جنگ نہیں دیکھی تھی، لیکن ان پانچ مہینوں میں ہم نے یہ سیکھ لیا ہے کہ کیسے لڑنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ایسا دفاعی نظام حاصل کرنا ہے کہ دشمن ہم پر حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکے اور ہم امن سے رہ سکیں۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس جنگ کو صدر کی اگلی مدت تک طول دیا جائے اور دشمن کو تھکا دیا جائے تاکہ اگر کوئی دوسرا بھی ایران پر حملہ کرنے کا سوچے تو اسے معلوم ہو کہ اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
واضح رہے کہ یہ تنازع 28 فروری 2026 کو اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ملک کی دیگر اعلیٰ قیادت کو شہید کر دیا گیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات پر حملے کیے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر مشیر نے ملک کے نئے فوجی نظریے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاسداران کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت اس قدر بڑھائیں کہ ملکی سرحدوں سے جارحانہ آپریشنز کو دشمن کی زمین تک انجام دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کا جنگی بجٹ ایران کے دفاعی بجٹ سے سو گنا زیادہ ہے مگر دشمن کے تمام چودہ مقاصد ناکامی سے دوچار کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ جنگ دشمن کے علاقے تک لے جا سکے اور جارحانہ ڈاکٹرائن کی یہ خصوصیت پوری ہونی چاہیے۔
جنرل نقدی نے امریکا کی جانب سے ایران پر ایٹمی حملوں کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے ایک غلطی ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جس صبح انہوں نے بم استعمال کیا، اس کے اگلے ہی دن دنیا بھر میں امریکا کے تمام فوجی اڈے ختم کردیے جائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج حالات دوسری جنگِ عظیم جیسے نہیں ہیں، دنیا کے لوگ جاگ چکے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا اپنا ایٹم بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اور ان کا ایٹم بم دنیا کے لوگوں کے وہ دل ہیں جو انہوں نے ظلم کے خلاف لڑ کر جیتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایرانی عوام کی امریکی شہریوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور ”امریکا مردہ باد“ کا نعرہ امریکی قیادت کے لیے ہوتا ہے جو ستر سے زائد ممالک میں فوجی مداخلت کی ذمہ دار ہے۔
میزائلوں کی تیاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جنرل نقدی نے دعویٰ کیا کہ ایران میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی روزانہ تیاری کی شرح ان کے داغے جانے کی شرح سے زیادہ ہے اور ملک میں تقریباً 950 صنعتی قصبے دفاعی سازوسامان کی تیاری میں مصروف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی دن ایران کے پاس میزائل ختم بھی ہو گئے، تو وہ دن امریکا کے لیے اور بھی زیادہ خطرناک ہوگا۔
دوسری طرف، سفارتی محاذ پر امن مذاکرات مکمل طور پر معطل ہیں۔
رائٹرز کے مطابق جون 2026 میں صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان پندرہ روزہ عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، جسے بعد میں جولائی میں امریکا نے ختم اور ایران نے معطل کر دیا تھا۔
امریکا ایران پر آبنائے ہرمز نہ کھولنے کا الزام لگاتا ہے جبکہ ایران امریکا پر بحری ناکہ بندی ختم نہ کرنے اور اثاثے منجمد رکھنے کا الزام عائد کرتا ہے۔
اس تمام صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایران کی طاقت کے دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اللہ کا شکر ہے ایران اب مشرقِ وسطیٰ کا بدمعاش نہیں رہا، ایران تباہ ہو چکا ہے۔
امپوں نے کہا کہ امریکا کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے اور امریکا اسے برقرار رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری بحری ناکہ بندی کو ہر کوئی فولادی دیوار قرار دے رہا ہے، اور ایران اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔
صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ”ایران کے پاس نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ، ایران کے باقی ماندہ فوجی تنخواہوں سے محروم ہیں، پاسدارانِ انقلاب تباہ حال ہے اور ایرانی فوجی بھاگ رہے ہیں۔ ایران کے پاس پیسہ نہیں صرف جعلی خبریں اور تین سو فیصد افراطِ زر ہے اور یہ صورتحال مزید بدتر ہوگی، ایران صرف باتیں کرتا ہے، عملی اقدام نہیں کرتا“۔