میر رضا پر 5 کروڑ روپے کا قرضہ، عابد اور مونی کون ہیں؟
کراچی کے ہائی پروفائل میر رضا ہلاکت کیس کی تحقیقات میں ایک انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں متوفی کے مالی معاملات کا سراغ لگاتے ہوئے پانچ کروڑ روپے سے زائد کے قرضوں کی تفصیلات حاصل کر لی گئی ہیں۔
پولیس نے اس مالی لین دین کی تفتیش کے لیے دس مشتبہ افراد کی فہرست تیار کر کے انہیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کر لیا ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا نے ان تمام افراد سے مختلف اوقات میں قرضے لے رکھے تھے، جن میں عابد نامی ایک شخص شامل ہے جس سے انہوں نے ایک کروڑ پچھتر لاکھ روپے سے زائد کی خطیر رقم بطور قرض لی تھی۔
اسی طرح مونی نامی ایک اور شخص سے بھی پانچ لاکھ روپے کا قرض لیا گیا تھا۔
پولیس اب ان تمام دس افراد سے مالی لین دین کے ممکنہ محرکات اور وجوہات کے بارے میں گہرائی سے تفتیش کرے گی تاکہ قتل کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
اس کیس کی تکنیکی تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے میر رضا کی ڈیجیٹل واچ، موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک گیجٹس نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کر دیے گئے ہیں تاکہ ماہرین ان کا فارنزک معائنہ کر کے اہم ڈیٹا حاصل کر سکیں۔
یہ ڈیوائسز میر رضا کے والدین کی موجودگی میں تفتیشی حکام کے سپرد کی گئیں۔
دوسری طرف فارنزک حکام نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ گولیوں کے خول میچ کرنے والا انٹیگریٹڈ بیلسٹک آئڈینٹی فیکیشن سسٹم خراب ہے، جس کی وجہ سے خول کو میچ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے، تاہم یہ کام مائیکرو اسکوپ کے ذریعے متبادل طریقے سے کیا جا رہا ہے۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ اور گیسٹ ہاؤس پر پولیس اہلکار تعینات ہیں، لیکن پہاڑی علاقہ اور جنگل ہونے کی وجہ سے جیو فینسنگ میں مشکلات آ رہی ہیں، جبکہ میر رضا کے وکیل اور والد نے انہی پراسرار جگہوں پر تیزاب کی بوتلوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔
کیس کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ گئی جب گلستان جوہر سے مردہ حالت میں ملنے والے میر رضا کی آٹھ اگست کو کی گئی قبر کشائی کے بعد ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آئی، جس نے پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ کو بالکل غلط ثابت کر دیا۔
اس نئی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جسم پر شدید تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میر رضا کو گولی پیچھے کی طرف سے ماری گئی کیونکہ پیچھے زخم کا نشان چھوٹا اور سامنے کی طرف بڑا ہے، جبکہ ان کی پسلیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں۔
میر رضا کے سر، چہرے اور جبڑے پر گہری چوٹیں اور فریکچر پائے گئے ہیں اور دائیں ران پر بارہ سینٹی میٹر طویل فریکچر کا زخم ملا ہے۔
ڈاکٹروں نے ڈی این اے میچنگ اور دیگر کیمیائی تجزیوں کے لیے مقتول کے جسم اور ان کے والدین سے کُل سترہ نمونے حاصل کر کے جامعہ کراچی کی فارنزک لیب بھیج دیے ہیں۔
کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان اٹھائیس جولائی کو پی ای سی ایچ ایس کے علاقے سے لاپتہ ہوا تھا، جب وہ صبح چار بج کر نو منٹ پر ایک آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے نکلا تھا۔ دو دن بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر کے ایک گیسٹ ہاؤس کے باہر سے انتہائی خراب حالت میں ملی جسے گولی لگی ہوئی تھی اور موت سے ایک دن پہلے ہی ان کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کر دیے گئے تھے۔
میر رضا کے والد نے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیٹے میر رضا کا تیس اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح طے تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔
پولیس اب تمام مالی، ڈیجیٹل اور طبی شواہد کو یکجا کر کے کیس کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے اور آج تحقیقاتی ٹیم کا ایک اہم اجلاس بھی متوقع ہے۔
