معاہدۂ مکہ: سعودیہ، پاکستان اور ترکیہ کا مشترکہ سیاسی و عسکری فریم ورک تشکیل دینے کا فیصلہ
ترک وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے ’معاہدۂ مکہ‘ کے تحت سیاسی اور عسکری رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترکیہ کی وزارتِ دفاع نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ گزشتہ ہفتے طے پانے والے مشترکہ دفاعی کے تحت ایک مشترکہ سیاسی اور عسکری فریم ورک تشکیل دیں گے جس میں تینوں ممالک کے وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ اور عسکری سربراہان شامل ہوں گے۔
انقرہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان ترک وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ اس نئے رابطہ جاتی نظام کے ذریعے دفاع اور خارجہ امور سے متعلق معاملات پر تینوں ممالک کے درمیان رابطے اور تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
ترک وزارتِ دفاع کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مشترکہ فوجی مشقوں کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی شعبے میں مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کے تبادلے تک تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی کام کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ یا ’’معاہدۂ مکہ‘ نام دیا گیا تھا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران جنگ کے باعث حالات بے یقینی کا شکار ہیں اور ایران امریکی جارحیت کے جواب میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔
اس معاہدے کے تحت یہ طے پایا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو اجتماعی دفاع کے حوالے سے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب یا ترکیہ میں سے کسی بھی ملک نے اس معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی تھیں البتہ تینوں ممالک وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ریاست یا فریق کے خلاف نہیں بنایا گیا بلکہ اس کا مقصد دفاعی اور علاقائی سیکیورٹی تعاون کو یقینی بنانا ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس معاہدے کے بعد جاری بیان میں بتایا تھا کہ ’معاہدۂ مکہ‘ کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، باہمی رابطوں اور مشترکہ سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اس سے قبل ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے معاہدے کے حوالے سے بتایا تھا کہ مشترکہ دفاع معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان سیاسی اور عسکری سطح پر رابطے کے لیے کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جس میں وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور فوجی سربراہان شامل ہوں گے، جبکہ سعودی عرب میں ایک مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔