جعلی خبروں سے بھی زیادہ بری جعلی انٹیلی جنس ہے، امریکا محتاط رہے: عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر مکمل امریکی کنٹرول کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے۔ عراقچی کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کی ناکامیوں کے باعث امریکا پہلے بھی غلط اندازے لگاتا رہا ہے اور اب آبنائے ہرمز کے معاملے میں اس سے بھی بڑی غلطی ہوسکتی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق صدرٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے دعوے کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر سخت بیانات کا تبادلہ ہوا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے دعوے پر واشنگٹن کو محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے امریکی مؤقف کو انٹیلی جنس کی ناکامیوں اور غلط اندازوں سے تعبیر کیا۔
عباس عراقچی نے جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ جعلی خبروں سے بھی زیادہ بری چیز جعلی انٹیلی جنس ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا طویل عرصے سے انٹیلی جنس کی ناکامیوں کے باعث غلط اندازے لگاتا رہا ہے اور ایران کے خلاف جنگ اس کی ایک واضح مثال ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اب آبنائے ہرمز کے معاملے میں اس سے بھی بڑی غلط فہمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ٹرمپ کے ایک روز قبل کیے گئے اس دعوے کے ردعمل میں سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔
انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور زمین پر موجود ہر طاقت سے بڑا ہے، ہمیں اللہ پر بھروسا ہے۔
امریکی صدر نے منگل کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔ امریکی صدر نے اپنی بحری ناکا بندی کو ’فولادی دیوار‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران اس حوالے سے کچھ نہیں کرسکتا۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کو بھی شدید متاثر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے پاس بحریہ اور فضائیہ نہیں رہی، جب کہ پاسداران انقلاب کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی مؤقف اس کے برعکس ہے۔ تہران پہلے ہی امریکی حکام کے ان دعوؤں کو مسترد کرچکا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہے۔ ایران کی خلیج فارس آبنائے اتھارٹی نے بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال امریکی حکام کے بیانات سے تبدیل نہیں ہوتی اور ایران کی شرائط پوری ہونے تک اسے دوبارہ مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔
آبنائے ہرمز پر دونوں ممالک کے متضاد دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اس اہم آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں انتہائی کم ہوگئی ہے۔ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 سے 140 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، جب کہ حالیہ دنوں میں یہ تعداد چند جہازوں تک محدود رہی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی رسد اسی راستے سے گزرتی تھی۔ موجودہ کشیدگی اور بحری آمدورفت میں رکاوٹ نے عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھایا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدرٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو ’کم شور‘ کے ساتھ آگے بڑھانے کا عندیہ دیا تھا۔ 9 اگست کو امریکی نشریاتی ادارے ’ایگزیوس‘ سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ محدود سطح پر مذاکرات کر رہا ہے اور اس کی معاشی صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع میں آبنائے ہرمز محض ایک بحری گزرگاہ نہیں بل کہ ایک اہم سفارتی اور تزویراتی معاملہ بھی بن چکا ہے۔ دونوں جانب سے اس پر اپنے مؤقف کے اظہار کے ساتھ ساتھ اسے مذاکرات اور علاقائی دباؤ کے تناظر میں بھی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔
ایسے میں عباس عراقچی کا تازہ بیان واضح کرتا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز پر امریکی برتری کے دعوے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے بالخصوص انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے جانے والے امریکی اندازوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں غلط اندازہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید پیچیدہ کرسکتا ہے۔