میر رضا کیس: نئی تفتیشی کمیٹی نے سابقہ ٹیم اور پولیس اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کرلیے
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی پُراسرار موت کی تحقیقات کے لیے قائم نئی 8 رکنی تفتیشی ٹیم کا اجلاس ہوا ہے جس میں متعدد پولیس افسران اور اہلکاروں کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے کرائم سین سمیت مشکوک گیسٹ ہاؤس اور میر رضا کے کچن کا بھی دورہ کیا ہے۔
جمعرات کو نئی تفتیشی ٹیم کا اجلاس فیروزآباد پولیس اسٹیشن میں منعقد ہوا جو تقریباً پونے چار گھنٹے جاری رہا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق اجلاس میں پولیس کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے والی سی پی ایل سی کی ٹیم بھی موجود تھی۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن عامر فاروقی کی سربراہی میں قائم تفتیشی ٹیم نے میر رضا کی لاش ملنے کی اطلاع پر جائے وقوعہ پہنچنے والی پولیس ٹیم کے بیانات قلمبند کیے۔ اس دوران ڈی ایس پی رینک تک کے افسران اور اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔
اجلاس ختم ہونے کے بعد تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کرائم سین کی جانب روانہ ہوئے، جہاں ٹیم نے ایس ایچ او گلستان جوہر کے ہمراہ جائے وقوعہ کا تفصیلی جائزہ لیا۔
تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ کے قریب موجود نرسری اور مشکوک قرار دیے گئے گیسٹ ہاؤس کا بھی دورہ کیا۔ اس دوران نرسری کے مالی اور جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچنے والی پولیس ٹیم کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
ڈی آئی جی عامر فاروقی نے میر رضا کی موت سے قبل ان کے سفر کے روٹ میپ کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا۔ بعد ازاں تحقیقاتی ٹیم میر رضا کے کچن پہنچی، جہاں تفتیشی ٹیم کے ارکان نے کچن کے مختلف حصوں کا جائزہ لیا، بعد ازاں ٹیم دوبارہ جائے وقوعہ پہنچ گئی۔
میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے ملی تھی، جس کے بعد سندھ پولیس کی تین رکنی ٹیم نے کیس کی تحقیقات شروع کی تھیں۔
پولیس کے بیانات اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واقعے کو خودکشی قرار دینے کی جانب اشارہ کیا جاتا رہا تاہم اہل خانہ کی جانب سے پوسٹ مارٹم رپورٹ اور سابقہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کے بعد کیس کی دوبارہ تحقیقات شروع کی گئیں۔
قبرکشائی کے بعد کیے گئے دوسرے پوسٹ مارٹم نے میر رضا کو قتل کیے جانے کے شبے کو تقویت دی ہے، جس کے بعد نئی تفتیشی ٹیم مختلف پہلوؤں سے کیس کا جائزہ لے رہی ہے۔
فیروزآباد تھانے میں اجلاس کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن عامر فاروقی نے کیس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات چل رہی ہیں، میڈیا سے بعد میں شیئر کریں گے۔‘
