90 منٹ کی ورزش یا صرف 3 منٹ کی سائیکلنگ بہتر؟ نئی تحقیق پر سب حیران

محققین کے مطابق شدید ورزش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے یہ سگنلز میٹابولزم اور چربی کے خلیوں کے افعال پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
شائع 14 اگست 2026 11:29am

اگر آپ مصروفیت کے باعث جم جانے یا گھنٹوں ورزش کے لیے وقت نہیں نکال پاتے، تو سائنس نے آپ کے لیے ایک بڑی خوشخبری سنا دی ہے۔ ایک نئی پیشرفت میں امریکی سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ چند منٹ کی انتہائی شدید ورزش بھی جسم میں ایسی نمایاں حیاتیاتی تبدیلیاں پیدا کرسکتی ہے جو صحت کے کئی اہم پہلوؤں سے جڑی ہوئی ہیں۔

مؤقر سائنسی جریدے ’سیل رپورٹس میڈیسن’ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں سائنسدانوں نے انتہائی شدید ورزش اور معمول کی معتدل ورزش کے اثرات کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے 30، 30 سیکنڈ کے شدید رفتار والے سائیکلنگ وقفے کیے، جن کے درمیان تقریباً چار منٹ آرام دیا گیا۔

نتائج نے محققین کو بھی حیران کردیا۔ شدید ورزش کے بعد خون میں 714 پروٹینز میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئیں، جبکہ معمول کی رفتار سے سائیکلنگ کے بعد صرف 7 پروٹینز میں ایسی تبدیلی ریکارڈ ہوئی۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ورزش کا صرف دورانیہ ہی نہیں بلکہ اس کی شدت بھی جسم کے حیاتیاتی ردعمل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

جسم کے اندر کیا تبدیلی آتی ہے؟

تحقیق میں شدید جسمانی سرگرمی کے دوران فعال ہونے والے مختلف کیمیائی سگنلز پر بھی توجہ دی گئی۔ ان میں ’لیک-فے‘ نامی مالیکیول خاص اہمیت رکھتا ہے، جسے ورزش کے بعد بھوک اور توانائی کے استعمال سے متعلق حیاتیاتی عمل سے جوڑا جاتا ہے۔

محققین کے مطابق شدید ورزش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے یہ سگنلز میٹابولزم اور چربی کے خلیوں کے افعال پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ تحقیق میں سامنے آنے والی بعض پروٹین تبدیلیاں دل کی صحت، ٹائپ ٹو ذیابیطس، موٹاپے اور صحت مند عمر رسیدگی سے متعلق حیاتیاتی راستوں سے بھی وابستہ پائی گئیں۔

اس تحقیق کو مزید تقویت اس وقت ملی جب سائنس دانوں نے 53 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ شدید ورزش سے متاثر ہونے والے بعض پروٹینز کا تعلق قلبی صحت، میٹابولک بیماریوں کے خطرے اور عمر بڑھنے کے عمل سے تھا۔

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر پال کوہن کے مطابق یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ جسم صرف چند منٹ کی شدید ورزش پر بھی ایک طاقتور حیاتیاتی ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ یہ دریافت خاص طور پر ان افراد کے لیے اہم ہوسکتی ہے جو مصروف معمول کے باعث طویل ورزش کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔

تاہم ماہرین کے مطابق ان نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ چند منٹ کی شدید ورزش ہر شخص کے لیے طویل دورانیے کی معتدل ورزش کا مکمل متبادل ہے۔ مختلف ورزشیں جسم کے مختلف حصوں اور نظاموں پر اثر انداز ہوتی ہیں، جبکہ برداشت، پٹھوں کی مضبوطی اور دل و پھیپھڑوں کی صحت کے لیے باقاعدہ جسمانی سرگرمی اپنی جگہ اہم ہے۔

ساتھ ہی ہائی انٹینسٹی ورزش ہر فرد کے لیے یکساں موزوں بھی نہیں۔ جو لوگ طویل عرصے سے ورزش نہیں کررہے یا کسی طبی مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں، ان کے لیے شدید ورزش شروع کرنے سے پہلے ماہرِ صحت سے مشورہ ضروری ہے۔

تحقیق کا بنیادی پیغام البتہ واضح ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے ورزش کا ہر فائدہ گھنٹوں کے معمول کا محتاج نہیں، درست شدت کے ساتھ مختصر جسمانی سرگرمی بھی جسم کے اندر بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا آغاز کرسکتی ہے۔

Read Comments