بل گیٹس کی بیٹی کو 20 سال قید کے خطرے کا سامنا، وجہ کیا ہے؟

بل گیٹس کی بیٹی فیا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں اس مسئلے کا علم صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہوا
شائع 15 اگست 2026 12:41pm

امریکی ارب پتی بل گیٹس کی 23 سالہ بیٹی فیبی گیٹس کی اسٹارٹ اپ کمپنی ’فیا‘ پر آن لائن فروخت کا کریڈٹ غلط طور پر اپنے نام کرنے کے لیے ’کوکی سٹفنگ‘ کے طریقہ کار میں ملوث ہونے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے قانونی نتائج بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ’کوکی سٹفنگ‘ ایک ایسا عمل ہے جس میں صارف کی آن لائن سرگرمی کو اس طرح ٹریک کیا جاتا ہے کہ کسی فروخت کا کریڈٹ اور اس پر ملنے والا کمیشن ایسی کمپنی کو بھی حاصل ہو جائے جس نے حقیقت میں فروخت مکمل کرانے میں کردار ادا نہ کیا ہو۔ اس خلاف ورزی کی زیادہ سے زیادہ سزا 20 سال قید ہوسکتی ہے۔

’فیا‘ ایک ڈیجیٹل شاپنگ اسسٹنٹ کمپنی ہے جسے فیبی گیٹس نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی اپنی سابقہ ساتھی صوفیا کیانی کے ساتھ مل کر قائم کیا تھا۔

کمپنی نے جولائی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے بعد شدید تشویش کا اظہار کیا تھا، جن میں الزام لگایا گیا کہ فیا ضرورت سے زیادہ ’کوکیز‘ صارفین کے براؤزر میں محفوظ کر رہی تھی، جس کے نتیجے میں کاروباری شراکت داروں کے ہاں ہونے والی ایسی آن لائن فروخت کا کریڈٹ بھی کمپنی کو مل رہا تھا جس میں وہ حقیقی طور پر شریک نہیں تھی۔

فیا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں اس مسئلے کا علم صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہوا اور کمپنی نے خرابی دور کرنے کا عہد کیا ہے۔ تاہم باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا کہ دونوں بانیان کو کم از کم سات ماہ سے اس مسئلے کا علم تھا۔ بلومبرگ کے مطابق کمپنی فروخت سے حاصل ہونے والے اپنے کمیشن کا تخمینہ بھی بڑھا چڑھا کر لگا رہی تھی۔

رپورٹ کے مطابق فرم گنور لا کی بانی وکیل ایریل گیفنر نے دو روز قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں خبردار کیا تھا کہ ’کوکی سٹفنگ‘ کے عمل کے سنگین قانونی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب فیا کے ترجمان نے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ ایسی تمام خصوصیات، جن کی وجہ سے فروخت غلط طور پر منسوب ہو رہی تھی، ایک ماہ سے بھی پہلے، خاص طور پر 7 جولائی کو ہٹا دی گئی تھیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’’ہم تمام معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں اور غلط طور پر منسوب کیے گئے تمام معاملات کو منسوخ کرنے اور اپنے تجارتی شراکت داروں کو کمیشن واپس کرنے کے لیے کام شروع کر چکے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی ایک کمپلائنس افسر بھی مقرر کر رہی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایسا معاملہ دوبارہ پیش نہ آئے۔

ترجمان کے مطابق ہم اس تجربے سے سیکھیں گے تاکہ اپنے صارفین کو شاپنگ کا بہترین ممکنہ تجربہ فراہم کر سکیں، جس میں ڈیجیٹل وارڈروب اور دیگر نئی خصوصیات بھی شامل ہیں۔

فیا نے 2025 میں ہائلی بیبر، کرس جینر اور اسپینکس کی بانی سارہ بلیکلی سمیت سرمایہ کاروں سے تقریباً 30 ملین ڈالر حاصل کیے تھے۔

کمپنی ایک سپورٹ پلیٹ فارم اور براؤزر ایکسٹینشن کے طور پر کام کرتی ہے۔ جب صارف خریداری کے دوران فیا کی ایکسٹینشن پر کلک کرتا ہے تو یہ ای کامرس اسٹورز پر ڈسکاؤنٹ کوڈز تلاش کرتی ہے۔

اگر خریدار فیا کی جانب سے فراہم کردہ کوئی کوپن استعمال کرے تو ایکسٹینشن ایک ’کوکی‘ محفوظ کرتی ہے، جو صارف کی آن لائن سرگرمی کو ٹریک کرتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ فیا نے فروخت مکمل ہونے میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں کمپنی کو اسٹور کی جانب سے کمیشن ملتا ہے۔

تاہم باخبر افراد اور بلومبرگ کی جانب سے دیکھے گئے سلیک پر موجود اندرونی پیغامات کے مطابق فیبی گیٹس اور صوفیا کیانی کو مبینہ طور پر اس بات کا علم تھا کہ کمپنی کی بعض خصوصیات ایسی کوکیز محفوظ کر رہی تھیں، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب صارف نے فیا کا کوپن استعمال نہیں کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ طریقہ کار کم از کم دسمبر سے نائکی، گیپ اور نوردسٹروم سمیت متعدد بڑے اسٹورز پر استعمال ہو رہا تھا اور کمپنی کی آمدنی کا بڑا حصہ اسی سے حاصل ہو رہا تھا۔

جولائی میں ان خصوصیات کو معطل کیے جانے کے بعد فیا کی اوسط روزانہ آمدنی تقریباً 80 ہزار ڈالر سے کم ہو کر 10 ہزار سے 28 ہزار ڈالر کے درمیان رہ گئی۔

رپورٹ کے مطابق جون میں ’کوکی سٹفنگ‘ سے منسوب سیلز کمپنی کی جانب سے اپنے لیے کریڈٹ کی جانے والی مجموعی فروخت کا تقریباً 51 فیصد تھیں۔

Read Comments