ایران کا قطر پر 3 لاپتہ پائلٹس کی گرفتاری کا الزام، ریڈ کراس سے فوری مداخلت کا مطالبہ

ایران نے پہلی بار دعویٰ کیا ہے کہ مارچ میں قطر میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد لاپتہ 3 پائلٹس قطری فورسز کی تحویل میں ہیں۔
شائع 15 اگست 2026 09:19pm

ایران نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ مارچ میں قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے فضائیہ کے تین پائلٹس قطری فورسز کی تحویل میں ہیں۔ ایرانی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) سے تینوں پائلٹس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور رہائی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے قائم کمیٹی کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل محمد باقرزادے نے ریڈ کراس کو خط لکھا ہے۔ خط میں انہوں نے تین ایرانی پائلٹس کے قطری فورسز کی تحویل میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے صورت حال کا جائزہ لینے اور ان تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب ایران نے عوامی سطح پر دعویٰ کیا ہے کہ 2 مارچ کو قطر میں امریکی فوجی اڈے پر کارروائی کے بعد لاپتہ ہونے والے تین پائلٹس کو قطری فورسز نے زندہ گرفتار کیا تھا۔

ریڈکراس کو لکھے گئے خط کے مطابق ایرانی فضائیہ کے دو ’ایس یو 24‘ لڑاکا طیاروں نے ایران پر ہونے والے حملوں کے جواب میں قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے کی جانب پرواز کی تھی۔ دونوں طیاروں نے اپنا مشن کامیابی سے مکمل کیا تھا تاہم واپسی پر وہ دشمن کے فضائی دفاعی نظام کی زد میں آ گئے تھے۔

خط کے مطابق چار پائلٹس میں سے ایک، بریگیڈیئر جنرل مجید کاظمی جاں بحق ہوگئے تھے، جن کا جسدِ خاکی ایران کے حوالے کر دیا گیا تھا تاہم دیگر تین پائلٹس، جواد صالحی، عبدالحمید دشتیان اور عمران بیرویشیان کو قطری فورسز نے زندہ گرفتار کر لیا تھا۔

انہوں نے قطر پر الزام عائد کیا کہ واقعے کو چھ ماہ گزرنے کے باوجود اس نے بین الاقوامی قوانین، بالخصوص جنیوا کنونشنز کے تحت قیدیوں کے حقوق کا احترام نہیں کیا۔

جنرل محمد باقرزادے کے مطابق سفارتی کوششوں اور مسلسل رابطوں کے باوجود ایرانی حکام کو ان پائلٹس سے ملاقات یا ان کا انٹرویو کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور پائلٹس کو اپنے اہل خانہ اور اس معاملے کی پیروی کرنے والے ایرانی حکام سے رابطے کا موقع بھی نہیں دیا جارہا ہے۔

ریڈ کراس کمیٹی کی صدر مرجانا اسپولیاریچ کے نام لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ جنگی جرائم سے متعلق دفعات کے دائرے میں آتا ہے اور اس پر غور اور تحقیقات ہونی چاہئیں۔

بریگیڈیئر جنرل محمد باقرزادے نے جنیوا کنونشن کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریڈکراس کے حکام قطر میں موجود تینوں ایرانی پائلٹس سے فوری ملاقات کر کے ان کی صحت کے بارے میں تہران کو آگاہ اور جلد رہائی میں سہولت فراہم کریں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا نے یکم اگست کو بتایا تھا کہ تہران اس معاملے کی پیروی جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ قطری حکام کا دعویٰ تھا کہ انہیں لاپتہ ایرانی فضائی اہلکاروں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

Read Comments