چین کا ’گریٹ ٹرانس شپمنٹ' نامی مبینہ دھوکہ، امریکا کو اربوں ڈالر نقصان کا دعویٰ
وائٹ ہاؤس نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیرف سے بچنے کے لیے 40 سے زائد ممالک پر مشتمل ایک عالمی تجارتی نیٹ ورک استعمال کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ 25 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چینی مصنوعات کو براہ راست امریکا بھیجنے کے بجائے مختلف تیسرے ممالک کے راستے امریکی منڈی تک پہنچایا جاتا ہے، جس سے ان اشیا پر عائد ٹیرف کم یا ختم ہو جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وائٹ ہاؤس کی یہ رپورٹ سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔
رپورٹ میں اس طریقہ کار کو ’دی گریٹ ٹرانس شپمنٹ اسکیم‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کے ذریعے چین امریکی تجارتی محصولات سے بچنے کے لیے عالمی سپلائی چین کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق چین کی مصنوعات جن ممالک کے ذریعے امریکا پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، ان میں بھارت، کینیڈا، میکسیکو، جاپان، جنوبی کوریا، اسرائیل، ترکیہ اور ملائیشیا سمیت 40 سے زائد ممالک شامل ہیں۔
تاہم رپورٹ میں شامل ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نام نہیں دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق چینی برآمد کنندگان بعض مصنوعات کو براہ راست امریکا بھیجنے کے بجائے پہلے ایسے ممالک میں منتقل کرتے ہیں جہاں امریکا نے نسبتاً کم درآمدی ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے۔ وہاں بعض اوقات معمولی نوعیت کی اسمبلی، پیکنگ یا مصنوعات کے لیبل میں تبدیلی کی جاتی ہے اور اس کے بعد سامان کو امریکا برآمد کیا جاتا ہے۔
امریکی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں سالانہ 30 ارب سے تقریباً 300 ارب ڈالر مالیت کی اشیا ایسے تجارتی راستوں سے منتقل ہو سکتی ہیں جہاں ان پر زیادہ ٹیرف لاگو ہونا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس عمل سے امریکا کو محصولات کی مد میں سالانہ 26 ارب ڈالر تک نقصان پہنچنے کا تخمینہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مبینہ تجارتی دھوکے کے نتیجے میں امریکا میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ ملازمتیں متاثر یا ختم ہوئی ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے چین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سامان کی اصل شناخت چھپانے کے لیے تیسرے ممالک کو استعمال کرنا کاغذی کارروائی کے پردے میں دھوکا دہی کے مترادف ہے۔
وائٹ ہاؤس نے رپورٹ میں لکھا کہ موجودہ ’گریٹ ٹرانس شپمنٹ اسکیم‘ میں صرف سامان کی منتقلی کی رفتار اور حجم ہی نہیں بڑھا بلکہ چین کی جانب سے ٹیرف سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے عالمی نیٹ ورک کی وسعت اور پیچیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
امریکی حکومت کے مطابق ایسے معاملات کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جا رہی ہے۔
امریکی تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے اس حوالے سے کہا کہ اس عمل کی قیمت ’’امریکی ملازمتوں اور اربوں ڈالر کی آمدنی‘‘ کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ تیسرے ممالک کے ذریعے چینی مصنوعات کی امریکا آمد نے امریکی ٹیرف پالیسی کے اثرات کو محدود کیا ہے۔
دوسری جانب چین نے امریکی الزامات اور تجارتی اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ، ’’تجارتی جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔‘‘
ترجمان نے امریکی ٹیرف اقدامات اور چینی کمپنیوں کو ریاستی طاقت کے ذریعے نشانہ بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تیسرے ممالک کے ذریعے منتقل ہونے والی مصنوعات سے متعلق یکطرفہ اقدامات یا معاہدوں میں کسی تیسرے ملک کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
چینی سفارت خانے کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’’ٹرانس شپمنٹ سے متعلق کسی بھی یکطرفہ اقدام یا معاہدے کا مقصد تیسرے فریق کے مفادات کو نشانہ بنانا یا نقصان پہنچانا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
معاشی ماہرین کے مطابق ہر قسم کی ٹرانس شپمنٹ کو لازماً غیر قانونی تجارت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سنگاپور مینجمنٹ یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر چانگ پاؤ لی کے مطابق عالمی سپلائی چین میں تبدیلیاں بعض اوقات جائز کاروباری وجوہات، نئی فیکٹریوں کے قیام اور پیداواری عمل کو مختلف ممالک میں منتقل کرنے کے باعث بھی ہوتی ہیں۔
تاہم ان کے مطابق امریکی رپورٹ کا معاملہ اس لیے اہم ہے کہ واشنگٹن یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ چین نے تیسرے ممالک کے ذریعے امریکی منڈی تک اپنی رسائی برقرار رکھی ہے۔
چانگ پاؤ لی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ اس صورت میں امریکا اور چین کے درمیان کسی بھی وسیع تر تجارتی معاہدے میں صرف براہ راست چینی برآمدات ہی نہیں بلکہ تیسرے ممالک کے ذریعے ہونے والی تجارت کو بھی شامل کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن معیشتوں کا چینی سپلائی چین سے زیادہ گہرا تعلق ہے، انہیں مستقبل میں اضافی خطرات اور اخراجات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف مختلف پابندیاں اور تجارتی اقدامات کیے ہیں، جبکہ بعض شعبوں میں برآمدی پابندیوں کو بھی سخت کیا گیا ہے۔
رپورٹ کی ٹائمنگ بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے متوقع ستمبر کے دورہ واشنگٹن اور ملاقات سے چند ہفتے قبل جاری کی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رپورٹ مستقبل میں ہونے والے مذاکرات میں امریکا کے لیے ایک اضافی دباؤ اور سودے بازی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپریل 2025 میں متعدد تجارتی شراکت داروں کے خلاف وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کیے تھے۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ درآمدی اشیا پر زیادہ محصولات امریکی صنعت، ملازمتوں اور ملکی معیشت کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
تاہم ان ٹیرف اقدامات کو قانونی چیلنجز کا بھی سامنا رہا اور امریکی سپریم کورٹ نے بعد میں ان میں سے بعض اقدامات کو کالعدم قرار دیا، جس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے دیگر قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنی ٹیرف پالیسی جاری رکھی۔
یوں نئی وائٹ ہاؤس رپورٹ میں چین کے ساتھ ساتھ ان ممالک کے تجارتی راستوں پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے جو امریکی منڈی تک چینی مصنوعات پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
چین نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے تجارتی جنگ اور یک طرفہ اقدامات کی مخالفت کی ہے، جبکہ آنے والے امریکا چین مذاکرات میں ٹرانس شپمنٹ کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم موضوع بننے کا امکان ہے۔