ایران پر توجہ: امریکا نے ایشیا سے اپنا آخری طیارہ بردار بحری جہاز بھی واپس بلا لیا
ایران کے خلاف جنگ میں امریکی فوجی کارروائیوں کے باعث امریکا نے بحرالکاہل میں موجود اپنا آخری طیارہ بردار بحری جہاز بھی مشرق وسطیٰ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں عارضی طور پر امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی موجودگی ختم ہوجائے گی۔ امریکی حکام اور دفاعی ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے چین کو خطے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا مزید موقع مل سکتا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یو ایس ایس جارج واشنگٹن بحرالکاہل سے روانہ ہو کر مشرق وسطیٰ پہنچے گا، جہاں وہ طویل عرصے سے تعینات یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ لے گا۔ ابراہم لنکن کو ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے باعث مقررہ وقت سے زیادہ عرصے تک سمندر میں رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن کی تعیناتی میں اصل شیڈول کے تحت مئی میں واپسی کے بجائے مسلسل توسیع کی گئی، جس کے باعث جہاز پر موجود عملے میں ذہنی دباؤ اور رسد سے متعلق مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی عدم موجودگی ممکنہ طور پر مختصر مدت کے لیے ہوگی اور امریکی بحریہ آئندہ چند ماہ میں ایک اور طیارہ بردار جہاز خطے میں تعینات کرسکتی ہے، تاہم اس پیش رفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ طویل جنگ امریکی بحریہ کے وسائل پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی بحرالکاہل سے روانگی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چین خطے میں اپنی عسکری سرگرمیاں بڑھا رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار برائن کلارک کے مطابق چین امریکی طیارہ بردار جہاز کی غیر موجودگی کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ ان کے بقول بیجنگ جاپان، فلپائن، انڈونیشیا اور دیگر ممالک کو یہ پیغام دینے کی کوشش کرسکتا ہے کہ مغربی بحرالکاہل میں امریکا کی سابقہ حیثیت برقرار نہیں رہی۔
چین نے رواں ہفتے انڈونیشیا کے ساتھ بحری مشقیں کی ہیں جبکہ جاپان اور فلپائن کے ساتھ بھی اس کی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ چین نے رواں ماہ جنوبی بحیرہ چین میں اسکاربورو شول کے قریب فوجی مشقیں کیں، جبکہ گزشتہ ماہ ایک چینی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر نے جاپان کے جنوبی جزیرے اوکینوتوری کے قریب لائیو فائر مشق کی تھی۔
امریکا کے اہم اتحادی فلپائن اور جاپان کے چین کے ساتھ علاقائی تنازعات بھی ہیں۔
امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل فرینک بریڈلی نے علاقائی اتحادیوں کو واشنگٹن کے عزم کی یقین دہانی کرائی ہے۔
بریڈلی نے جمعرات کو منیلا میں فلپائن کے حکام سے ملاقات کی اور کہا کہ امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مشقوں کو مزید بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ وہ جاپان کا دورہ بھی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا دنیا کے کسی بھی حصے میں اپنی فوجی طاقت پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں خطرے سے نمٹنے کے بعد امریکی افواج کو دوبارہ خطے میں تعینات کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کے دوران فوجی کارروائیوں میں طیارہ بردار بحری جہازوں پر نمایاں انحصار کیا ہے۔
یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بھی ایران کے خلاف کارروائیوں سمیت دیگر مشنز کے بعد مئی کے وسط میں وطن واپس پہنچا تھا۔ اس کی تعیناتی تقریباً 11 ماہ جاری رہی جو ویتنام جنگ کے بعد کسی امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی طویل ترین تعیناتیوں میں شامل ہے۔
دوسری جانب یو ایس ایس ابراہم لنکن 240 سے زائد دن مسلسل سمندر میں رہ چکا ہے۔ امریکی ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس نے جہاز پر موجود اہلکاروں کے حالات کی تحقیقات اور مزید معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک سمندر میں رہنے سے فوجی اہلکاروں کو مناسب آرام نہیں ملتا اور مسلسل تعیناتی ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو متاثر کرسکتی ہے۔
امریکی بحریہ کے پاس 11 طیارہ بردار جہاز
دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی بحریہ کے پاس مجموعی طور پر 11 طیارہ بردار بحری جہاز ہیں، جن میں سے عام طور پر دو یا تین ایک وقت میں آپریشنل تعیناتی پر ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کو بھی سان ڈیاگو سے مشرق وسطیٰ روانہ کیا جاتا ہے تو امریکی بحریہ بیک وقت چار طیارہ بردار جہاز تعینات کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں جارج واشنگٹن کو دوبارہ بحرالکاہل بھیجا جاسکتا ہے۔
تاہم طیارہ بردار بحری جہازوں کو باقاعدہ مرمت اور دیکھ بھال کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق طویل تعیناتیوں کے بعد امریکی بحریہ کو آئندہ برسوں میں مرمت کے لیے جہازوں کی طویل قطار کا سامنا ہوسکتا ہے، جس سے بحرالکاہل میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کی موجودگی مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دفاعی ماہرین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ جدید جنگ میں بڑے طیارہ بردار جہازوں پر انحصار کس حد تک مؤثر رہے گا۔ ان کے مطابق ڈرونز اور میزائلوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث بڑے بحری جہاز پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے نشانہ بن سکتے ہیں، جبکہ چھوٹے جنگی جہاز اور آبدوزیں بھی بعض کارروائیوں میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔
امریکی بحریہ کے اعلیٰ حکام بھی مستقبل میں بڑے طیارہ بردار بحری جہازوں پر انحصار کم کرکے چھوٹے اور جدید جنگی جہازوں سمیت دیگر عسکری وسائل کے استعمال پر زور دے رہے ہیں۔