ٹرمپ انتظامیہ نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاسدارانِ انقلاب سے خفیہ رابطہ کیا: ایگزیوس
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی قیادت سے بھی براہِ راست رابطے کی کوشش کرچکی ہے۔ امریکی حکام نے خفیہ بیک چینل کے لیے عراقی کردستان ریجن کے صدر نچیروان بارزانی کو رابطہ کار بنایا، کیوں کہ ان کے واشنگٹن اور تہران دونوں میں اعلیٰ سطح کے روابط موجود ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ کوشش مئی کے وسط میں کی گئی تھی جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوششوں کا آغاز ہوا تھا۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے اس خفیہ رابطے کے ذریعے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل احمد واحدی تک براہِ راست رسائی کی کوشش کی، تاہم امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان عراق میں موجود امریکی فوجی اڈے ’اربیل ایئربیس‘ میں مجوزہ خفیہ ملاقات عملی شکل اختیار نہ کرسکی۔
ایگزیوس کے مطابق مئی کے وسط میں ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے آغاز پر امریکی حکام اس بات کی تصدیق چاہتے تھے کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان فیصلے کو واقعی پاسدارانِ انقلاب کی قیادت کی حمایت حاصل ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس صورت حال میں غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ایران کے سرکاری مذاکرات کاروں کو نظر انداز کرکے براہِ راست پاسدارانِ انقلاب کی قیادت تک پہنچنے کی کوشش کی۔
اس خفیہ رابطے کے لیے عراق کے کردستان ریجن کے صدر نچیرون بارزانی کا انتخاب کیا گیا، کیوں کہ ان کے امریکی اور ایرانی دونوں حلقوں میں روابط موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے چند روز بعد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔ ان مذاکرات میں ایرانی وفد کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک تھے جب کہ جب کہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف شامل تھے۔ تاہم مئی کے آغاز میں جب وائٹ ہاؤس کو محسوس ہوا کہ معاملہ کسی حتمی معاہدے کے قریب پہنچ رہا ہے تو ایران نے جواب دینے میں 10 دن کا وقت لیا۔
اس دوران امریکی مذاکرات کاروں کو یہ شبہ ہونے لگا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو معاہدہ کرنے کا مکمل اختیار حاصل نہیں ہے اور انہیں ممکنہ طور پر پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 10 مئی کو اس وقت کی امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے عراقی کردستان ریجن کے صدر نچیرون بارزانی کو فون کیا۔ ذرائع کے مطابق تلسی گبارڈ نے نچیروان بارزانی سے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل احمد واحدی تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی درخواست کی۔
واضح رہے کہ نچیروان بارزانی ایران-عراق جنگ کے دوران ایران میں مقیم رہے اور تہران یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وہ فارسی زبان پر عبور رکھتے ہیں اور ان کے ایرانی حکومت کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں اور پاسدارانِ انقلاب کے سینئر رہنماؤں سے ذاتی مراسم ہیں۔
ایگزیوس کے مطابق تلسی گبارڈ نے نچیروان بارزانی کو بتایا کہ اس منصوبے کو صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی منظوری حاصل ہے اور وائٹ ہاؤس یہ جاننا چاہتا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار جو شرائط طے کر رہے ہیں، کیا پاسدارانِ انقلاب بھی ان سے متفق ہیں یا ان کے کوئی علیحدہ مطالبات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کردستانی رہنما نے امریکی درخواست قبول کرتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب میں موجود اپنے روابط کے ذریعے پیغام پہنچایا۔ ذرائع کے مطابق بارزانی نے زور دیا کہ وہ براہِ راست جنرل واحدی سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ جس کے بعد 14 مئی کو پاسدارانِ انقلاب کا ایک عہدیدار اربیل میں نچیروان بارزانی کے دفتر پہنچا اور ایک محفوظ رابطے کے لیے انکرپٹڈ فون کا استعمال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بارزانی نے جنرل واحدی سے پوچھا کہ آیا وہ ایرانی مذاکرات کاروں کے مؤقف سے متفق ہیں۔ جنرل واحدی نے جواب دیا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں اور پاسدارانِ انقلاب بھی مذاکرات کے ذریعے اس تنازع کے حل کی حمایت کرتی ہے۔ بارزانی نے جنرل واحدی سے رابطے کے فوراً بعد تلسی گبارڈ سے رابطہ کیا اور انہیں ایرانی مؤقف سے انہیں آگاہ کیا، جس کے بعد تلسی گبارڈ نے وائٹ ہاؤس کو بریف کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس جواب کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایک اور تجویز پیش کی۔ امریکا چاہتا تھا کہ بارزانی اربِیل میں امریکی اور ایرانی اعلیٰ مذاکرات کاروں کے درمیان خفیہ ملاقات کی میزبانی کریں۔ ایرانی حکام نے اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا لیکن اسے اپنی سکیورٹی کے حوالے سے شدید خدشات تھے۔
ایرانی حکام کو خدشہ تھا کہ عراقی کردستان میں اسرائیلی انٹیلی جنس کے متعدد ذرائع موجود ہیں اور اسرائیل اربیل میں یا وہاں سے آتے جاتے ایرانی حکام کو نشانہ بنانے کی کوشش کرسکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور قطر اب بھی امریکا اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے متحرک اور فریقین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
ایگزیوس کے مطابق اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ نچیرون بارزانی نے حال ہی میں وائٹ ہاؤس سے پھر رابطہ کیا ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔
تاہم بریٹ میک گرک، جو چار امریکی صدور کے مشرقِ وسطیٰ سے متعلق مشیر رہ چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اصل مسئلہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی پالیسی ہے اور ان کے بقول مستقبل قریب میں تہران کے مؤقف میں تبدیلی کے امکانات کم ہی نظر آتے ہیں۔