غزہ منصوبے پر سفارتی سرگرمیاں تیز: حماس سربراہ کی مصری انٹیلی جینس چیف سے ملاقات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اور داماد جیرڈ کشنر کی بھی حماس کے نمائندوں سے ملاقات متوقع ہے۔
شائع 16 اگست 2026 07:41pm

امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ کے لیے مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ حماس کے سربراہ خلیل الحیہ کی قیادت میں ایک وفد نے مصری انٹیلی جینس کے سربراہ حسن رشاد سے ملاقات کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اور داماد جیرڈ کشنر کی بھی حماس کے نمائندوں سے ملاقات متوقع ہے۔

سعودی خبر رساں ادارے العریبیہ کے مطابق حماس کا ایک وفد اس وقت مصر میں موجود ہے۔ خلیل الحیہ کی قیادت میں یہ وفد ہفتے کی شام مصر پہنچا تھا۔

وفد نے اتوار کو مصری شہر العلَمین میں مصری انٹیلی جنس کے سربراہ حسن رشاد سے ملاقات کی۔ جس میں غزہ کے انتظام اور بحالی کے منصوبوں پر عمل درآمد کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق حماس کے وفد کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اور داماد جیرڈ کشنر سے بھی ملاقات طے ہے۔ ذرائع کے مطابق جیرڈ کشنر کی اسرائیلی حکام سے ملاقاتوں کے بعد حماس کے وفد سے یہ ملاقات ثالثوں کی موجودگی میں ہوگی۔

ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا مقصد صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر عمل درآمد اور غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ کو منتقل کرنے کے عمل کو آسان بنانا ہے۔ اس کے علاوہ ملاقات میں غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کی تعیناتی، اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلا اور انسانی امداد کی فراہمی جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔

حماس کے مطابق ملاقات میں حالیہ پیش رفت اور اسرائیل کو معاہدے کی پاسداری پر آمادہ کرنے کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

حماس کا کہنا ہے کہ اس کا وفد مصری حکام کو جنگ بندی معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کرے گا ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا جائے گا کہ حماس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے اور اسرائیل کے معاہدے کی پاسداری کا اعلان کرتے ہی وہ بھی اسے نافذ کرنے کا اعلان کر دیں گے۔

رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں ’بورڈ آف پیس‘ کے ڈائریکٹر جنرل نکولائی ملادینوف کے علاوہ ترکیہ، مصر اور قطر کے نمائندوں کی بھی شرکت متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اہم ترین اجلاس کا مقصد ٹرمپ کے منصوبے کی شرائط پر دوبارہ گفت و شنید کرنا نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کو آگے بڑھانا ہے۔

واضح رہے کہ حماس نے جولائی کے آخر میں پیشکش کی تھی کہ وہ اپنے ہتھیار غزہ کے انتظام کے لیے قائم ہونے والی نئی تکنیکی کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ پیشکش ٹرمپ کے قائم کیے گئے ’بورڈ آف پیس‘ کی جانب سے اعلان کردہ 15 نکاتی منصوبے کا حصہ تھی۔

تاہم اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں جائے گی۔ یوں مصر میں جاری اس بات چیت کو غزہ اور ’بورڈ آف پیس‘ کے مستقبل کے بارے میں انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔

Read Comments