ایرانی آرمی چیف کا امریکی فوجی کو قتل یا گرفتار کرنے والے کو 30 ہزار ڈالر انعام کا اعلان
ایران کی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی نے خلیج فارس میں امریکی فوج کی موجودگی کے دور کا خاتمہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جو کوئی ایک امریکی فوجی کو ہلاک یا گرفتار کرے گا اس کو 30 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا جب کہ ایسی کارروائی انجام دینے والی ایرانی خواتین کو دگنا انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اتوار کو صحافیوں کے حوالے سے قومی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی نے عوامی چندہ مہم کے ذریعے نیا اقدام متعارف کرایا، جس میں ایرانی شہری دفاعی کارروائیوں کے لیے مسلح افواج سے تعاون کے لیے عطیات دیں گے۔
میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ جو کوئی بھی ایک امریکی فوجی اہلکار کو قتل یا گرفتار کرکے ایرانی حکام کے حوالے کرے گا، ان کو انعام کے طور پر 30 ہزار ڈالر (5 ارب تومان) دیا جائے گا۔
ایرانی آرمی چیف نے مزید کہا کہ اگر بہادر ایرانی خواتین میں سے کوئی یہ اقدام کرے تو ان کو اس رقم کا دوگنا انعام ملے گا اور اس کے لیے استعمال ہونے والا اسلحہ فوج کی جانب سے مارکیٹ کے مقابلے میں دوگنا زیادہ قیمت میں خریدا جائے گا اور میوزیم میں مستقل طور پر آویزاں کیا جائے گا۔
انہوں نے امریکی افواج کو ’’امریکی جارح افواج‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی گرفتاری یا ہلاکت کی صورت میں مقررہ انعام دیا جائے گا تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی فوجیوں کو پکڑنے یا ہلاک کرنے کی کارروائی کہاں یا کب متوقع ہے۔
جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ مقدس آبنائے ہرمز ایرانی عوام کے لیے ایک خداداد جغرافیائی و سیاسی اثاثہ ہے، یہ تزویراتی برتری اب کبھی بھی پرانی پوزیشن پر واپس نہیں جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے ایرانی آرمی چیف نے کہا کہ امریکی صدر کے کارناموں میں سے ایک آبنائے ہرمز کی پوشیدہ صلاحیتوں کو متحرک کرنا ہے، ہم اس صلاحیت سے بخوبی آگاہ تھے لیکن یہ جنگ نہ ہوتی تو یہ اس کی افادیت اس طرح سامنے نہ آتی۔
ایرانی آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ یہ برتری جنگ کو اس انداز میں ختم کرنے کے لیے بنیادی شرائط میں سے ایک ہے، جس سے ایران پر منڈلاتا ہوا جنگ کا خطرہ ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گا اور امریکا کا انخلا مکمل کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو خلیجِ فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی ہرگز اجازت نہیں ہے، ہر ایک کو یہ جان لینا چاہیے کہ امریکی فوجی اڈے اب کبھی اپنی پرانی حالت میں بحال نہیں ہو سکیں گے اور ایران اس کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔
دوسری جانب ایران نے جوابی اقدام کے طور پر امریکی فوج کو دہشت گرد ادارہ قرار دے رکھا ہے جب کہ امریکا نے بھی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ آئی آر جی سی باضابطہ طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا حصہ ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور نے داعش سمیت مختلف دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں بھی کردار ادا کیا ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی، جب امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا تاہم تقریباً 40 روز تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد اپریل میں جنگ بندی ہوئی۔
بعد ازاں جون میں امن مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک طے پایا تاہم یہ مذاکراتی عمل بعد میں ناکام ہوگیا۔ اس کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا جب کہ لڑائی کا مرکز زیادہ تر جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے اطراف رہا۔