پانامہ: وسطی امریکا کے ملک ایل سلواڈور میں پانامہ کی لاءفرم موساک فونسیکا کے دفتر پر چھاپہ مار کر بیس کمپیوٹر اور دستاویزات قبضے میں لے لی گئیں،اسی معاملے کے تناظر میں پانامہ کا ایک وفد اگلے ہفتے فرانس کا دورہ کرے گا۔
دنیا بھر میں ہلچل مچا دینے والے اسکینڈل پانامہ لیکس میں ملوث کمپنی موساک فونسیکا کیخلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔
ایل سلواڈور کے اٹارنی جنرل ڈگلس میلین ڈیز کی سربراہی میں کمپنی کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا، اس دوران کمپنی سے بیس کمپیوٹر اور اہم دستاویزات قبضے میں لی گئی جبکہ سات ملازمین سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔
ایل سلواڈو کے اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ابھی کمپنی کو کسی بھی جرم کا مرتکب ٹھہرانا قبل از وقت ہے، انھوں نے مزید کہا کہ
اس موقع پر کچھ کہا نہیں جا سکتا،ہم صرف اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں،قبضے میں لی گئی چیزوں سے معلومات حاصل کی جائیں گی جس کے بعد تفتیش کا آغاز کیا جائے گا۔
اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ کمپنی کے ایک ملازم نے دفتر تبدیل کرنے کے منصوبے کا انکشاف کیا تھا اور کمپنی کے دفتر سے آفس سائن ہٹا دئے گئے تھے جس کے بعد شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے تھے۔
دوسری جانب پانامہ کے صدر جوان کارلوس نے فرانس کی جانب سے پانامہ کو بلیک لسٹ کرنے کے جواب میں کسی کارروائی کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیںکہ فرانسییسی حکومت کا اقدام غلط اور غیرضروری ہے،اس کے برعکس معاملات کو ملک کے سربراہان کے درمیان بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے،پانامہ کے وزیرخزانہ فرانس کا دورہ کرکے صدر اولاندے سے ملاقات کریں گے اور معاملے پر وضاحت دینگے۔
فرانس نے پانامہ کو ٹیکس چوری روکنے کےلئے عدم تعاون کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔
پانامہ لیکس کے ذریعے دنیا کے متعدد سیاسی رہنماو¿ں سمیت اہم شخصیات کی آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہوا جس کے بعد متعدد ممالک میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پانامہ لیکس میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔