ٹرین کی پٹری پر کیوں موجود ہوتی ہے بجری؟

شائع 12 نومبر 2016 09:21am

 

اگر آپ کا کبھی ٹرین میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ کو  ریلوے ٹریک کے ارد گرد بجری اور چھوٹے چھوٹے پتھر دیکھنے کو ملے ہوں گے۔

ٹریک پر موجود بجری اور پتھر دیکھ کر کبھی آپ نے سوچا کہ یہ یہاں کیوں موجود ہوتے ہیں؟ ان کا یہاں کیا کام ہے؟

کچھ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ ٹرین کی پٹری  پر بجری اس لئے بچھائی جاتی ہے تاکہ اس سے ہونے والی آلودگی سے محفوظ رہا جاسکے،لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔

بلکہ اس کا جواب بہت آسان اور دلچسپ ہےاور وہ یہ کہ معمولی سی نظر آنے والی بجری اصل میں آپ کی جان بچانے کےلئے ٹریک پر موجود ہوتی ہے۔ یعنی بجری ٹرین کو ٹریک پر سے اترنے نہیں دیتی۔

بجری ایسے وزن کا کام کرتی ہے جو ٹریک پر لگے لکڑی کے تختوں کو اپنی جگہ سے ہلنے نہیں دیتا اور ٹرین پٹری سے نیچے نہیں اترتی۔

یہ درحقیقت انجنیئرز کے لیے چیلنج تھا کہ میلوں تک پھیلے اسٹیل ٹریک جس کو ٹرین کے وزن، رفتار اور اس سے پیدا ہونے والے ارتعاش اور حرارت کو برداشت کرنا ہوتا ہے۔

تو اس دلچسپ مسئلے کا حل لگ بھگ 200 سال پہلے اس بجری کی شکل میں سامنے آیا اور تب  سے اس حل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اس زمانے میں انجنیئرز نے خالی میدان میں ٹریک بچھانے کے بعد اس کی بنیاد کو اتنا بلند کیا کہ پانی میں ڈوب نہ سکےجبکہ بنیاد کے اوپر بڑی مقدار میں بجری کو بھر دیا جس کے بعد لکڑی کے تختوں کو لگایا گیا جو کہ ساڑھے19 فٹ لمبے، 9انچ چوڑے اور 7 انچ موٹے تھے، ہر ایک میل کے اندر 3249 تختے لگائے گئے۔

ان لکڑی کے تختوں کے درمیان بجری کو بھر دیا گیا ۔ ریلوے ٹریک پر موجود  پتھروں کے تیز کونے تختوں کو پھسلنے سے روکتے ہیں اور وہ اپنی جگہ مضبوطی سے لگے رہتے ہیں۔

تو یہ صدیوں پرانا عمل اب بھی انتہائی موثر ثابت ہورہا ہے اور لوگوں کو ہزاروں میل کا سفر کرنے میں مدد دیتا ہے اور کوئی بھی موسم ٹرین کو چلنے سے روکنے میں ناکام رہتا ہے۔

Read Comments